قرض اتارنے کا آٸیڈیا

Published on: 22/06/2022 | Comments: No comments 

فیصل آباد کے ایک نوجوان کی جانب سے پاکستان کا قرضہ اتارنے کے لئے حکومت کو مفید مشورہ اور ایک آئیڈیا دیا

اس کا کہنا تھا کہ یہ ملک کا قرضہ اتارنا تو بائیں ہاتھ کا کھیل ہے.
لیکن یہ حکمران خود نہیں چاہتے کہ قرضہ اترے.

آسان سی پالیسی ہے تحریر مکمل پڑھیں پھر آپکو پتہ چلے گا

17 گریڈ کے افسران, ججز , وزراء ,مشیر, ڈپٹی کمشنرز,اسسٹنٹ کمشنرز, ڈی پی اوز, ڈی ایس پیز, ایس ایچ اوز, ڈسٹرکٹ آفیسرز, سی ای اوز, ڈی ای اوز, کالجز کے پروفیسرز,سکولز کے ہیڈ ماسٹرز, پیف والے پرائیویٹ سکولز مالکان, پراپرٹی ڈیلرز, تحصیلدار, پٹواری, بزنس مین, فوجی افسران, خفیہ اداروں کے افسران, فیکٹریوں کے مالکان, ملز مالکان, بڑے سرمایہ داران, آڑھتی , تاجران, تیس چالیس ایکڑ سے زیادہ اراضی والے زمینداران, سب کو ملا کر تعداد گنی جائے تو دو کروڑ آرام سے بن جائیں گے.
ان سب سے گورنمنٹ کا بیس بیس ہزار بطور قرض لینا معمولی سی بات ہے. جو کہ چار کھرب ماہانہ بنتا ہے.

اسکے بعد
297 پنجاب کے ایم پی ایز
130سندھ کے ایم پی ایز
124کے پی کے ایم پی ایز
65بلوچستان کے ایم پی ایز
336ایم این ایز
کل 965 اقتدار میں موجود سیاسی شخصیات ہیں جن سے صرف پانچ پانچ کروڑ فی کس لیا جانا عام سی بات ہے. اور ان لوگوں کیلئے یہ رقم دینا کوئی بڑی بات بھی نہیں ھے تویہ پچاس ارب بنتا ہے.

اسکے بعد
ایک کروڑ ملک بھر کے سرکاری ملازمین تو ہوں گے جن سے صرف دو ہزارماہانہ بطور قرض لیا جائے تو ماہانہ بیس ارب بنتا ہے.

بیس ہزار سے زائد انکم والے پرائیوٹ ملازمین کم ازکم تو پانچ کروڑ ہونگے جن سے صرف پانچ سو روپے ماہانہ قرض لیا جائے جو کہ پچیس ارب بنتا ہے.
کل تقریبا پانچ کھرب ہو گیا.

اور گورنمنٹ اپنے بجٹ میں سے اپنے ریونیو میں سے ایک کھرب ڈالے کل چھ کھرب روپے .
یعنی کہ تقریباً 34ارب ڈالر بنتا ہے۔⁩⁦

فرض کیا جائے کہ پاکستان پر مجموعی طور پرسو ارب ڈالر قرضہ ہو تو تین ماہ کی قلیل مدت جولائی تا ستمبر میں قرضہ اُن کے منہ پر مارا جاسکتا ہے. اور اسی پالیسی کے تحت اگلے تین ماہ اکتوبر تا دسمبر میں ہم آئی ایم ایف کو کہہ سکتے ہیں جتنا تم نے قرضہ دیا تھا اب اتنا ہم سے لے سکتے ہوں. اور اگر یہ ہی اکتوبر تا دسمبر کااتنابڑا ریونیو پاکستان اپنے دفاع ریلوے سڑکوں پی آئی اے اور دیگر اداروں پر لگا دے تو ہمارا ملک کہاں سے کہاں پہنچ سکتا ہے. صرف چھ ماہ میں مہنگائی کا تو نام ونشان ہی مٹ جائے گا انشاء اللہ تعالی

پھر ان اداروں سے جو ریونیو آئے گا وہ اوپر بیان کردہ جس جس پاکستانی
سے رقوم بطور قرض وصول کی گئی ہونگی انکو واپس لوٹانے کا سلسہ شروع کیا جائے اور دو تین سال میں آرام سے واپس ہو جائے گا.
اور اگر کوئی حب الوطنی کے تحت دیا گیا قرضہ ملک پر قربان کردے تو یہ تو اور بھی اچھی بات ھوگی
👇
یاد رہے میں کوئی معیشت دان نہیں ایک عام پاکستانی ہوں ۔۔ا

برائے مہربانی بات حکمرانوں تک ، اور ماہرین معاشیات تک پہنچے تاکہ وہ ملک کیلئے کچھ اچھا فیصلہ کریں

یہ ملک اور عوام اب باھر کے قرضوں پر نہیں چل سکتا ،
کیونکہ دنیا کے سامنے رسوائی اور ذلت الگ ہے اور ان کی کڑی شرائط اور ڈیمانڈ وہ الگ ہیں جس کے نتیجے میں حکومت کو ٹیکسز لگانے پڑتے ہیں اور نتیجتاً مہنگائی کا ایک طوفان آتا ہے اور اس ملک کے متوسط اور غریب عوام کو ھی بھگتنا پڑتا ہے

اسی لیئے اللہ کے واسطے
ایسا راہ حل تلاش کیا جائے کہ عوام پر ایک ہی دفعہ بوجھ ڈالیں اور قرض اتاریں، اور اس ملک کو قرض کے دلدل سے باہر نکالیں اس ملک کو اپنے پاؤں پر کھڑا کریں اور اقتصادی لحاظ سے مضبوط اور خود مختار بنائیں

ہمارا وطن ہماری عوام اب زیادہ قرضوں کا متحمل نہیں ہوسکتے

اور اگر آپ کے پاس بھی اس سے بہتر کوئی حل ہے تو اس کو بھی آگے تک پھیلائیں تاکہ ہماری عوام ایک آواز ہوکر حکمرانوں سے یہ  مطالبہ کرے

.. Pasted as recieved from internet, 22 June 2022

پاکستان کفن چوروں کے رحم و کرم پر

Published on: 27/05/2022 | Comments: No comments 

کسی شہر میں اک کفن چور آیا

جو راتوں کو قبروں میں سوراخ کر کے

تن کشتگاں سے کفن کھینچ لیتا

آخر کار پکڑا گیا

اور اس کو مناسب سزا ہو گئی

کچھ ہی دن بعد اک دوسرا چور وارد ہوا

جو کفن بھی چراتا

قبر کو بھی کھلا چھوڑ دیتا

دوسرا چور بھی رکن انصاف کے پاس لایا گیا

اور مہمان زنداں ہوا

پھر یکایک کسی تیسرے چور کا غل مچا

جو کفن بھی چراتا

قبر کو بھی کھلا چھوڑ دیتا

اور مردہ بدن کو برہنہ کسی راہ پر ڈال دیتا

شہر والے جب اسے عدالت میں لائے

تو قاضی نے اس کی سزا کو سناتے ہوئے

فیصلہ یوں لکھا

”خداوند پہلے کفن چور کو اپنی رحمت میں رکھنا کہ وہ آدمی خوب تھا”

.. CN report, 27 May 2022

Depiction of today’s politics in Pakistan: urdu poetry

Published on: 30/03/2022 | Comments: No comments 

Depiction of Pakistan’s politics today as visualised by revolutionary Urdu poet Habib Jalib , decades ago.

 

سنتالیس سال سے زیر تعمیر ٹنل

Published on: 09/07/2021 | Comments: No comments 

چترال (محکم الدین) پاکستان کی تاریخ کا سب سے منفرد اور طویل العمر پراجیکٹ لواری ٹنل اپنی آغاز سے اب تک سینتالیس سال گزرنے کے باوجود بھی نامکمل ہے جس کی وجہ سے مسافر و سیا ح اذیت اور مشکلات سے دوچار ہیں۔
چترال سائڈ پر سست روی کے شکار تعمیری کام سے خدشہ ہے کہ منصوبے کی تکمیل میں مزید دس سال لگیں گے۔ لواری ٹنل منصوبے کو 2013 میں اپروچ روڈ سمیت مکمل ہونا تھا لیکن 2021 میں بھی یہ روڈ مکمل نہیں ہے جس کی وجہ سے مسافر مصیبت میں گرفتار ہیں۔
پراجیکٹ کی ایگزیکیوٹنگ ایجنسی نیشنل ہائی وے اتھارٹی ہے جس کی غفلت اور بے حسی کیوجہ سے مقامی لوگ اور سیاح مصیبت سے دوچار ہیں ۔

The ‘Sharafat’ of Chitralis manifested in Lowari Tunnel project

اس حوالے سے کمشنر ملاکنڈ ڈویژن نے اپنے دورہ چترال کے موقع پر تعمیری کام میں تیزی لانے اور اسے جلد مکمل کرنے کیلئے اقدامات اٹھانےکی یقین دھانی کی تھی لیکن عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس کے نتائج تاحا ل سامنے نہیں آئے۔ بلکہ سست روی کاشکار کام اب تو بالکل بند ہی ہو چکا ہے۔
چترال پشاور جانے والے مسافروں اور سیاحت کی غرض سے چترال آنے سیاحوں نے لواری کے مقام پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے انتہائی افسوس کا اظہار کیا کہ پوری دنیا میں اپنی امن پسندی، مہمان نوازی اور قدیم کلچر کی وجہ سے مشہور چترال کے راستے سب سے زیادہ خطرناک اور خستہ حال ہیں جس پر سفر کرنا خود کو موت کے منہ میں دینے کے مترادف ہے۔ لیکن سابقہ اور موجودہ حکومتوں نے سڑکوں کی طرف کوئی توجہ نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ادارے عوام اور مسافروں کوسہولت دینے کیلئے ہوتے ہیں لیکن یہاں اس کا بالکل الٹ ہے۔
انہوں نے کہا کہ لواری ٹنل پر مسافروں کو بارہ بجے سے دو بجے تک بلاوجہ روکا جاتا ہے جبکہ من پسند گاڑیوں کو جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔ انتظار میں بیٹھے بیمار، معذور خواتین اور بچوں کی کوئی پرواہ نہیں کی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ کئی جگہوں پر مختلف اداروں کی الگ الگ چیکنگ بھی مسافروں اور سیاحوں کیلئے زحمت کا باعث بن چکا ہے۔ اس لئے مختلف اداروں کی ایک جگہ پر چیکنگ سے سیاحوں اور مسافروں کی مشکلات میں کمی ہو سکتی ہے۔
مسافروں نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور وزیر مواصلات مراد سعید سے پر زور مطالبہ کیا کہ لواری ٹنل اپروچ روڈ کو فوری مکمل کیا جائے اور چترال سائڈ پر تعمیری کام کو چیک کیا جائے جو دیر سائڈ کے کام کے مقابلے کا نہیں ہے۔

History of Pakistan in a stanza (urdu)

Published on: 01/06/2021 | Comments: No comments 

تاریخ پاکستان ایک قطعہ میں

ملک بھر کی تمام مساجد میں جمعہ کا خطبہ حکومتی ہدایات پر ہوگا

Published on: 25/05/2021 | Comments: No comments 

اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا ہے کہ بہتر معاشرے کی تشکیل کے لیے مساجد میں خطبہ جمعہ کے لیے صدر مملکت کی ہدایت پر 100 موضوعات کو چن لیا گیا ہے جن کا ابتدائی مسودہ بھی تیار کرلیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل کا دو روزہ اجلاس ختم ہوگیا جس کے بعد وزیراعظم عمران خان سے چئیرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز کی سربراہی میں وفد نے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے کونسل کی سفارشات کو مرحلہ وار نافذ کرنے کی یقین دہانی کرادی۔

ملاقات اور اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے قبلہ ایاز نے کہا کہ کونسل کے 8 ارکان سبکدوش ہوگئے ہیں تاہم ارکان ریٹائرڈ ہونے سے کونسل غیر فعال نہیں ہوگی، ان ارکان کی جگہ نئے ارکان کو جلد مقرر کیا جائے گا، توقع ہے ریٹائرڈ ہونے والے آٹھ ارکان میں دو ججز، خاتون، ماہرین معیشت و انتظامی امور شامل ہوں گے، بہت جلد تجویز کردہ نام وزارت قانون کو پیش کردیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں کونسل کی سفارشات سے متعلق بات چیت ہوئی وزیراعظم نے مرحلہ وار عمل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل بہتر معاشرے کی تشکیل کے لیے خطبہ جمعہ کے لیے موضوعات اور اس کے متعلقہ اسلامی ریفرنس بھی تیار کرکے دے گی، خطبات جمعہ کے لیے صدر مملکت کی ہدایت پر 100 موضوعات کو چنا گیا ہے تمام موضوعات کا ابتدائی مسودہ تیار کرلیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزارت مذہبی امور کی تجویز کردہ بین المذاہب تعاون و تعامل کی قومی پالیسی کو کچھ ترامیم کے ساتھ منظور کیا ہے اور اسے ملک کے اندر اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا، توہین میت کے واقعات سامنے آنے پر تجویز کردہ قانون کی منظوری دی گئی ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل نے گلگت بلتستان میں امن کے لیے علما کرام کے کردار کی تعریف کی اور کہا کہ آج کے اجلاس میں گلگت بلتستان میں دو افراد کی جانب سے آگ میں کودنے سے روکنے کے معاملے پر مثبت کردار ادا کرنے والے علماء کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، گلگت بلتستان سی پیک کا پہلا پڑاؤ ہے،  آئندہ نسلوں کا علماء پر قرض ہے کہ علاقے کو بدامنی سے محفوظ رکھے۔

قبلہ ایاز نے کہا کہ اشتہارات میں قرآن پاک کی آیات یا احادیث شامل ہونے پر بھی بحث کی گئی، اخبارات خریدنے والے آیات اور احادیث کا احترام کریں جب کہ سوشل میڈیا پر غلط پوسٹوں کا روکنا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا گیا، کابل میں اسکول اور مسجد پر حملے پر اظہار تشویش کیا گیا۔ … بشکریہ ‘نیا دور ٹی وی

سعودی حکومت نے مساجد میں لاؤڈ سپیکر پر پابندی لگا دی

Published on: 24/05/2021 | Comments: 1 comment 

سعودی حکومت نے ملک بھر کی تمام مساجد کے امام مساجد کو یہ حکم جاری کر دیا ہے کہ اذان اور نماز کے اقامہ کے علاوہ لاؤڈ سپیکر کا استعمال نہیں کیا جائے گا کیونکہ اس سے بوڑھوں اور بیماروں کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

سعودی عرب کی اسلامی امور کی وزارت کی طرف وزیر عبدالطیف شیخ کی طرف سے جاری کئے جانے والے ایک حکم نامہ کے مطابق ملک بھر کے امام مساجد پر لاؤڈ سپیکر کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ انہیں صرف اذان اور اقامہ کیلئے لاؤڈ سپیکر استعمال کرنے کی اجازت ہو گی۔ اس موقع پر لائوڈ سپیکر کی آواز بھی زیادہ اونچی نہیں ہونی چاہیئے۔

حکم نامے میں بتایا گیا ہے کہ سعودی مساجد کو لاؤڈ سپیکر کی آواز ایک تہائی رکھنے کی اجازت دی گئی ہے یعنی اگر آواز کی سطح ایک سے 100 فیصد تک ہو تو 25 فیصد سے زائد آواز اونچی بھی نہیں کی جا سکے گی۔ یہ اقدام اس لئے کیا گیا ہے کہ مساجد کے قریبی گھروں میں لاؤڈ سپیکرز کی وجہ سے بیماروں ، بچوں اور بوڑھوں کو تکلیف ہو رہی تھی ۔

سعودی حکام کے جاری حکم نامے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات شریعت کی روشنی میں اور نبی اکرم ﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے دی جا رہی ہیں اور ایک حدیث کا حوالہ دیا گیا ہے۔ نماز کے دوران امام کی آواز مسجد کے اندر موجود نمازیوں تک ہونی چاہیئے اور یہ ضروری نہیں کہ اسے قریب موجود گھروں تک بھی پہنچایا جائے۔

وزارت نے کہا ہے کہ ’بیرونی لاوٴڈ سپیکر پر امام کی تلاوت کو اگر سنا نہ جائے تو اس سے خود قرآن کی بے حرمتی ہوتی ہے۔مذکورہ ہدایت علامہ شیخ محمد بن صالح العثیمین اور علامہ ڈاکٹر صالح الفوزان کے فتوے سے بھی ماخوذ ہے جس میں اذان اور اقامت کے علاوہ بیرونی لاوٴڈ سپیکر استعمال کرنے سے منع کیا گیا ہے۔

  Source.. سعودی حکومت کی طرف سے متنبہ کیا گیا ہے کہ ان احکامات پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائے جائیگی ۔

گلگت بلتستان: سرکاری سرپرستی میں مباہلہ، شیعہ اور سنی عالم آگ میں کودیں گے

Published on: 18/05/2021 | Comments: 2 comments 


گلگت بلتستان میں جاری حالیہ مسلکی تنازعات پر وہاں موجود شیعہ اور سنی علماء نے ایک دوسرے کو مناظرہ اور مباہلہ کرنے کا چیلنج کیا ہے جسے دونوں فریقین کی جانب سے قبول کر کے مباہلہ کے دن اور وقت کا تعین بھی کر لیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق 17 مئی کو تنظیم اہل السنت والجماعت گلگت بلتستان کی جانب سے ایک اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ تنظیم اہل سنت والجماعت اور دیگر دینی و سیاسی جماعتوں کے علما اور عمائدین کا اہم اجلاس امیر تنظیم کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ایک فریق مسلسل امن و امن کو خراب کرنے پر تلا ہے اور مخلتف انداز سے صحابہ کرام کی توہین کا سلسلہ جاری ہے۔ لہذا قیام امن کے لئے جملہ مسلمان آئینی اور جمہوری کردار ادا کریں گے، توہین صحابہ کا مقدمہ بھی درج کروایا جائیگا۔ نیز مناظرہ اور مباہلہ کے چیلنج کو بھی قبول کر کے مقام اور وقت کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

دوسری جانب مرکزی امامیہ کونسل گلگت بلتستان نے اسی روز جوابی اعلامیہ جاری کرتے ہوئے مرکزی خطیب اہل سنت جامع مسجد گلگت کو ایک خط لکھا جس میں کہا گیا کہ آپ کی طرف سے مناظرہ کی دعوت موصول ہونے پر آغا راحت حسین الحسینی صاحب نے خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے کھلے دل سے قبول کیا ہے۔ اگرچہ ہماری طرف سے دعوت حق اخلاص پر مبنی تھا کہ تمام مسلمان مذہب کما حقہ قبول کر کے دنیا و آخرت میں کامیابی و کامرانی حاصل کریں۔

چونکہ ماضی میں مناظرے بہت ہوئے جن کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا ، لہذا اس بار مباہلہ کا فیصلہ ہوا ہے تاکہ حقیقت عیاں ہو اور علاقہ سے فساد ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو اور حق کا بول بالا ہو۔

اس تناظر میں 21 مئی 2021 بروز جمعہ سہ پہر 3 بجے شاہی پولو گراؤنڈ میں گلگت کی ضلعی انتظامیہ لکڑیوں کا انتظام کرے گی۔ صوبائی حکومت ، فورس کمانڈر ، چیف سیکرٹری اور عدالتوں کے معزز ججز کی موجودگی میں شیعہ مسلک سے آغا راحت حسین الحسینی اور اہل سنت ولجماعت سے مولانا قاضی نثار احمد صاحب اپنی حقانیت ثابت کرنے کے لئے آگ میں کود جائیں گے۔ جو بچ جائے گا وہ حق ہوگا ، جو جل جائے گا وہ باطل اور فی النار تصور کیا جائے گا۔

مرکزی امامیہ کونسل کے جنرل سیکرٹری نے خط کی کاپیاں وزیر اعلی گلگت بلتستان ، سیکرٹری داخلہ گلگت بلتستان ، Source ڈپٹی کمشنر گلگت بلتستان اور ایس ایس پی گلگت کو بھی ارسال کر دی ہیں۔

برطانوی سفیر نے پاکستانیوں کا ڈالا کچرا صاف کیا

Published on: 07/05/2021 | Comments: No comments 

برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر

،تصویر کا ذریعہCHRISTAINTURNER/TWITTER

آپ کا تو ہمیں نہیں پتا لیکن اگر ہم کسی خوبصورت اور پُرفضا مقام پر جاتے ہیں اور وہاں قدرتی خوب صورتی سے زیادہ انسانوں کا پھیلایا ہوا کچرا نظر آئے، تو ہمیں بہت کوفت ہوتی ہے۔

بالکل اسلام آباد میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی طرح۔

خیر وہ تو ہم اور آپ سے بھی ایک آدھ قدم آگے ہیں۔

انھوں نے آج ٹویٹر پر مارگلہ کی پہاڑیوں میں اپنے مارننگ واک کی کچھ تصاویر شئیر کیں، اور رمضان کے مہینے میں سب کو یاد دلایا کہ ’صفائی نصف ایمان ہے!‘

ہائی کمشنر صاحب اپنے مارننگ واک میں وہ کوڑا جمع کرتے ہیں جو لوگ وہاں پھینک جاتے ہیں۔ ان کی ٹائم لائن پر نظر ڈالیں تو احساس ہوتا ہے کہ انھوں نے ایسا پہلی بار نہیں کیا۔ تیس اپریل کو بھی اسی طرح انھوں نے مارگلہ کی پہاڑیوں سے کچرے کے دو بڑے بیگ جمع کیے تھے، اور ساتھ ہی لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ ’خوبصورت اسلام آباد کو صاف رکھیں۔‘

تب بھی اور آج بھی انھوں نے اپنی ٹویٹ میں اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقت کو ٹیگ کیا ہے۔ تب بھی اور آج بھی ڈی سی کے دفتر اور حمزہ صاحب نے ان کے ٹویٹ کے جواب میں ’گریٹ‘ لکھا!

اب یہ سب تو ٹھیک ہے لیکن زیادہ تر لوگوں کو ڈی سی صاحب کا جواب اتنا ’گریٹ‘ نہیں لگا۔

ایک صارف نے ڈی سی صاحب کے ٹویٹ کے جواب میں لکھا، ’سر، اس میں گریٹ کیا ہے؟ ایک غیر مسلم کا ہمیں اپنے ہی دین کے بارے میں سکھانا؟ یا پھر ایک سفیر کا ہمارے اپنے ہی قومی پارک کی صفائی کرنا؟‘

عمر آفتاب بٹ نے لکھا ’آپ نے سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا ہو گا، اس لیے امید ہے کہ آپ یہ تو سمجھ ہی گئے ہوں گے کہ سفیر نے آپ کو ٹیگ کیوں کیا ہے؟‘

’اشارہ: آپ کی تعریف کے لیے نہیں۔‘

جواد تبریز نے لکھا، ’دارالحکومت میں ایک اور شرمسار کر دینے والا دن۔ رمضان کا مہینہ، جمعۃ الوداع اور ایک متاثر کُن غیر ملکی سفیر جو ہمیں ایک بنیادی عہد یاد دلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔۔ پھر ایک بار!‘

جہاں کئی صارفین نے ڈی سی صاحب کے جواب پر تنقید کی، وہیں کئی نے اس طرف بھی اشارہ کیا کہ یہ کام دراصل عام شہریوں کا بھی ہے اور عوام میں اس طرح کی عادات بچپن سے ڈالنے کی ضرورت ہے۔

سابق رکن قومی اسمبلی بشری گوہر نے اپنے ٹویٹ میں لکھا، ’اوروں کا پھیلایا ہوا گند صاف کرنے کے لیے بہت شکریہ۔ پاکستان، اسلام آباد میں کوڑے کو ٹھکانے لگانے کا بڑا مسئلہ ہے۔ مقامی حکومتوں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ اور میرے خیال میں بچوں کو چھوٹی عمر سے ہی گھر پر اور سکولوں میں شہریوں کی ذمہ داریوں کے بارے میں بتانا بہت اہم ہے۔‘

اس بات سے اتفاق نہ کرنا مشکل ہے کہ بچوں، بڑوں سب کو اپنے گھروں کے ساتھ ساتھ ہر جگہ صاف صفائی کا خیال رکھنا چاہیے۔

تو کیا خیال ہے، اگلی بار جب ہم آپ کسی خوبصورت، پُرفضا مقام پر تفریح کے لیے جائیں، تو اپنا کوڑا ایک تھیلے میں ڈال کر واپس گھر لے آئیں؟ پکا؟ گریٹ!   … Source