قبائلی علاقوں کے لیے 1.12 کھرب روپے کا ٹیکس فری سامان پنجاب اور سندھ کی منڈیوں میں پہنچ گیا
Englishوفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے 108 کمپنیوں کے خلاف تحقیقات تیز کر دی ہیں۔ ان کمپنیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے 1.12 کھرب روپے مالیت کی درآمدی اشیا پر ٹیکس چھوٹ کا مبینہ طور پر غلط فائدہ اٹھایا۔
ذرائع کے مطابق کمپنیوں نے سابق فاٹا اور پاٹا کے علاقوں کے لیے حاصل ٹیکس چھوٹ کے تحت مختلف اشیا درآمد کیں، لیکن یہ سامان ان علاقوں تک محدود رکھنے کے بجائے سندھ، پنجاب اور بلوچستان کی منڈیوں میں پہنچا کر فروخت کیا گیا۔
تحقیقات کے مطابق درآمد کی گئی اشیا میں 371 ارب روپے کا کوکنگ آئل اور گھی، 214 ارب روپے کا اسٹیل، 174 ارب روپے کی ٹیکسٹائل مصنوعات اور 65 ارب روپے کی چائے شامل ہے۔
ایف آئی اے نے لین دین سے متعلق اہم ریکارڈ حاصل کر لیا ہے اور 60 سے زائد کمپنیوں کے بیانات بھی ریکارڈ کیے ہیں۔ مزید 48 کمپنیوں کو اس معاملے میں نئے نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔
تحقیقات میں اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ ٹیکس چھوٹ کا کس طرح مبینہ غلط استعمال کیا گیا اور درآمد شدہ سامان کو ان علاقوں سے باہر کیوں منتقل کیا گیا جہاں یہ ٹیکس سہولت حاصل تھی۔
الزامات ثابت ہونے کی صورت میں متعلقہ کمپنیوں سے واجب الادا ٹیکس وصول کرنے کے ساتھ قانونی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
source : ایف آئی اے، ٹیکس چوری، ٹیکس چھوٹ، فاٹا، پاٹا، درآمدات، پاکستان کسٹمز، کوکنگ آئل، گھی، اسٹیل، ٹیکسٹائل، چائے