ناروے مستقبل کے لیے بچت کرتا ہے، جبکہ پاکستان قرض لیتا ہے۔

English

"دولت کا حساب کرو تو ہر نارویجن کروڑ پتی ہے۔ مجموعی دولت کا تخمینہ لگاؤ تو ناروے کی دولت اتنی ہے کہ وہ پوری دنیا کو کئی بار خریدنے کی بات بھی محض استعارہ نہ ہوگی۔ مگر اس دولت کا کمال یہ ہے کہ وہ چند لوگوں کی تجوریوں میں بند نہیں، بلکہ ایک قومی نظام کے ذریعے آنے والی نسلوں کے لئے محفوظ کی گئی ہے۔ ناروے کے پاس فوج بھی ہے، میزائل بھی، لڑاکا جہاز بھی اور بحری بیڑا بھی، لیکن اس کے باوجود وہاں قومی طاقت کا اظہار فوجی جاہ و جلال سے نہیں ہوتا۔ تیل کی دولت نے اسے دنیا کے امیر ترین ملکوں میں پہنچایا، مگر اس دولت نے اس کی سیاسی ترجیحات کو صرف اسلحے اور جنگی طاقت کے گرد نہیں گھمایا۔ قومی دن کے موقع پر جب دنیا کے بہت سے ممالک فوج اور فوجی سازوسامان کی نمائش کرتے ہیں، ناروے میں بچے ناروے کی جھنڈیاں لے کر سڑکوں پر مارچ کرتے ہیں۔ وہاں قومی طاقت کا سب سے خوبصورت مظاہرہ توپوں اور ٹینکوں کے بجائے بچوں کے ہاتھوں میں پکڑی ہوئی چھوٹی چھوٹی جھنڈیاں ہیں۔ پھول سے بچے جب سڑکوں پر نکلتے ہیں تو نظارہ قابلِ دید ہوتا ہے ۔ امن و امان کی صورتحال یہ ہے کہ کم عمر بچے صبح از خود پیدل، سائیکل یا ٹرین کے ذریعے اسکول آتے جاتے ہیں۔ والدین ہر وقت ساتھ نہیں ہوتے۔ یہ صرف پولیس کی موجودگی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک ایسے معاشرے کا اظہار ہے جہاں شہری ایک دوسرے پر اور ریاست پر نسبتاً زیادہ اعتماد کرتے ہیں۔ تعلیم ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اسکولنگ بڑے پیمانے پر عوامی طور پر مالی معاونت یافتہ ہے اور بچوں کی بنیادی ضروریات کو محض والدین کی استطاعت پر نہیں چھوڑا جاتا۔ وہاں دولت کی نمائش ہے نہ عہدوں کی۔ وزیراعظم اور عام شہری کے درمیان وہ مصنوعی فاصلہ نہیں جو ہمارے ہاں سرکاری عہدے کو پروٹوکول، قافلے، سڑکوں کی بندش اور درجنوں گاڑیوں میں تبدیل کر دیتا ہے۔ نارویجن سیاسی ثقافت میں حکمران بھی اسی معاشرے کا حصہ دکھائی دیتا ہے جس پر وہ حکومت کرتا ہے۔ اور سب سے اہم بات یہ کہ ناروے نے تیل کو صرف تیل رہنے نہیں دیا۔ اس نے زیرِ زمین دولت کو قومی سرمایہ میں تبدیل کیا۔ تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کا بڑا حصہ سرکاری خودمختار سرمایہ کاری فنڈ میں منتقل کیا گیا، جو دنیا کے سب سے بڑے سرمایہ کاری فنڈز میں شمار ہوتا ہے۔ یعنی آج کی نسل نے زمین سے نکلنے والی دولت کو صرف آج خرچ نہیں کیا بلکہ آنے والی نسلوں کے لئے بھی محفوظ کیا۔ زمین کے معاملے میں بھی وہاں نجی ملکیت موجود ہے، لیکن زمین اور تعمیرات ریاستی منصوبہ بندی اور قوانین کے تابع ہیں۔ یعنی نظام نہ مکمل بے لگام نجی ملکیت ہے اور نہ ہر چیز ریاست کی ملکیت۔ اصل چیز یہ ہے کہ فرد کی ملکیت اور اجتماعی مفاد کے درمیان ایک عملی توازن قائم کیا گیا ہے۔ ناروے ہمیں یہ نہیں بتاتا کہ دولت صرف تیل سے پیدا ہوتی ہے۔ وہ ہمیں یہ دکھاتا ہے کہ دولت پیدا ہونے کے بعد ریاست اسے کس طرح سنبھالتی ہے۔ وہاں تیل بھی ہے، سرمایہ بھی ہے، نجی ملکیت بھی ہے، کاروبار بھی ہے، مگر ساتھ ہی تعلیم، صحت، سماجی تحفظ، عوامی خدمات اور آنے والی نسلوں کا حصہ بھی ہے۔ شاید اسی لئے ناروے کا اصل سوال یہ نہیں کہ اس کے پاس کتنے ٹینک، کتنے میزائل اور کتنے جنگی جہاز ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس کے پاس جو کچھ ہے، وہ کس کے لئے ہے؟ اور یہی وہ سوال ہے جو کسی بھی ریاست کی اصل ترقی کا پیمانہ بن سکتا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان کی تمام تر قومی دولت فوج، بیوروکریسی، حکومت اور سیاستدانوں کے لئے ہے، انکی مراعات اور ششکوں کے لئے ہے۔ عوام کے لئے صرف وعدے سبز باغ اور آئی ایم ایف کے قرضے ہیں جو مندرجہ بالا اصحاب کے لئے حاصل کئے جاتے ہیں ۔ ایک ملک آنے والی نسلوں کے لئے دولت جمع کر رہا ہے دوسرا اپنی تعیشات کے لئے آنے والی نسلوں کو قرضوں کے عوض گروی رکھ رہا ۔ تحریر برکت حسین شاد

Share:

Comment (1)

  • Mohibullah October 8, 2026

    Norway has honest people managing the country and setting good examples for the population, while in Pakistan the situation is hopeless. So no comparison fits here.

Leave a Comment