اگر پاکستان نے آزادی کے فوراً بعد ڈیم بنانا شروع کر دیے ہوتے؟
English
تمام سیاسی، سماجی اور تاریخی معاملات کو ایک طرف رکھتے ہوئے ایک سادہ سا سوال ضرور پیدا ہوتا ہے: اگر پاکستان نے آزادی کے فوراً بعد بڑے پیمانے پر ڈیموں کی تعمیر کو اپنی سب سے بڑی معاشی ترجیح بنا لیا ہوتا تو آج پاکستان کی معیشت کیسی ہوتی؟
پاکستان کو آزادی کے وقت پانی کے بے پناہ وسائل ورثے میں ملے، لیکن بدقسمتی سے آج بھی ان وسائل کی بڑی صلاحیت پوری طرح استعمال نہیں ہو سکی۔ ذرا تصور کریں کہ اگر پاکستان نے اپنے ابتدائی برسوں میں عالمی مالیاتی اداروں اور دوسرے قرض دہندگان سے بڑے پیمانے پر قرضے لیے ہوتے اور ان رقوم کو ملک بھر میں ڈیم، آبی ذخائر اور پن بجلی کے منصوبے بنانے پر خرچ کیا ہوتا۔
یہ بھی تصور کریں کہ ان منصوبوں سے وافر اور نسبتاً سستی بجلی پیدا ہوتی اور حکومت اسے مہنگے داموں فروخت کرنے کے بجائے گھریلو صارفین، زراعت اور صنعتوں کو بڑی مقدار میں مفت یا انتہائی کم قیمت پر فراہم کرتی۔
اس کے معاشی نتائج بہت اہم ہو سکتے تھے۔ سستی اور مسلسل دستیاب بجلی سے صنعتوں کو فروغ ملتا، پیداواری لاگت کم ہوتی، زرعی پیداوار میں اضافہ ہوتا اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے ماحول بہتر بنتا۔ پاکستانی صنعتیں عالمی منڈی میں زیادہ مسابقتی بن سکتی تھیں۔ توانائی کی کم قیمت سے مہنگے درآمدی ایندھن پر انحصار بھی کم ہوتا اور ملک کا قیمتی زرمبادلہ بچایا جا سکتا تھا۔
بڑے آبی ذخائر کے کئی دوسرے فوائد بھی ہوتے۔ آبپاشی کا نظام بہتر ہوتا، بارشوں کے موسم میں پانی ذخیرہ کیا جا سکتا اور سیلاب اور خشک سالی کے اثرات کم کیے جا سکتے تھے۔
یقیناً صرف ڈیم بنانا خوشحالی کی ضمانت نہیں ہو سکتا تھا۔ اچھی حکمرانی، سیاسی استحکام، تعلیم، آبادی میں متوازن اضافہ، ٹیکنالوجی اور درست معاشی پالیسیاں بھی ضروری ہوتیں۔
اس کے باوجود سوال آج بھی دلچسپ ہے: اگر پاکستان نے آزادی کے ابتدائی برسوں میں لیے گئے قرضوں کا بڑا حصہ پانی اور پن بجلی کے منصوبوں پر خرچ کیا ہوتا تو کیا آج ملک کی صنعتی بنیاد زیادہ مضبوط، توانائی سستی اور معیشت زیادہ خود انحصار ہوتی؟
شاید اصل سبق یہ ہے کہ قومیں صرف قرض لے کر ترقی نہیں کرتیں، بلکہ ترقی اس وقت ہوتی ہے جب قرض ایسی منصوبہ بندی اور منصوبوں پر خرچ کیا جائے جو آنے والی نسلوں کے لیے بھی مسلسل معاشی فائدہ پیدا کرتے رہیں۔
۔۔ CN رپورٹ، 02 اکتوبر 2026ء۔۔