اعلان میں مسلمان، اعمال میں کیا؟

English

ہم مسلمان ہیں—کم از کم اپنے اعلان کے مطابق۔ ہمارے نام مسلمان ہیں، ہم کلمہ پڑھتے ہیں، نمازیں ادا کرتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، حج اور عمرہ کرتے ہیں، عیدیں مناتے ہیں اور اسلام کے نام پر بڑی بڑی باتیں بھی کرتے ہیں۔ لیکن کبھی کبھی دل میں یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ اگر ہمارے اعمال کو دیکھ کر ہماری شناخت کی جائے تو کیا دنیا ہمیں واقعی مسلمان سمجھے گی؟

اسلام صرف کلمہ پڑھنے یا چند عبادات ادا کرنے کا نام نہیں۔ اسلام ایک مکمل اخلاقی ضابطۂ حیات ہے۔ یہ سچ بولنے، انصاف کرنے، وعدہ پورا کرنے، امانت ادا کرنے، دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنے اور کمزور کے ساتھ کھڑے ہونے کا نام بھی ہے۔

لیکن ہمارے معاشرے کا المیہ دیکھیے۔ ہم جھوٹ بولتے ہیں، دھوکا دیتے ہیں، سفارش کو میرٹ پر ترجیح دیتے ہیں، رشوت کو برا کہتے ہوئے خود اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں، ٹیکس چوری کرتے ہیں، سرکاری وسائل کو اپنا مال سمجھتے ہیں اور دوسروں کا حق مارنے کے بعد بھی اطمینان سے نماز پڑھ لیتے ہیں۔

ہم دوسروں کی بدعنوانی پر شور مچاتے ہیں، لیکن جب وہی بدعنوانی ہمارے فائدے میں ہو تو اسے ’’مجبوری‘‘، ’’روایت‘‘ یا ’’چالاکی‘‘ کا نام دے دیتے ہیں۔

یہ کیسا مسلمان معاشرہ ہے جہاں مسجدیں بھری ہوئی ہیں مگر بازاروں میں دیانت کم، زبانوں پر دین ہے مگر معاملات میں انصاف کم، اور مذہبی نعروں کی کثرت ہے مگر کردار میں کمی؟

یہ تحریر دوسروں کو کافر یا بے دین قرار دینے کے لیے نہیں۔ یہ اپنے آپ کو آئینہ دکھانے کی کوشش ہے۔

ہمیں دنیا کو یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔ ہمیں اپنے کردار سے یہ ثابت کرنے کی ضرورت ہے۔

کیونکہ آخرکار انسان کی اصل پہچان اس کے دعوے سے نہیں، اس کے عمل سے ہوتی ہے۔

— CN Report، 03 اکتوبر 2026

Share:

Comment (1)

  • Fardad Ali Shah October 3, 2026

    I blame our religious preachers most for this dangerous falsity. Yesterday i was at a funeral gathering. A religious figure got up and started addressing the audience. What startled me was when he said “Allah loves sinners”. He not only said it once but repeated it by saying “gunahgar roi khodaio bo khosh boni” (Allah really loves sinful people). Whatever he said after that or before that is immaterial, but the very sentence was a poison injected in the minds of the audience who were listening attentively. With preaching like this, why would Muslims refrain from sins?.

Leave a Comment