عبادت سے آگے : دس ہزار روپے کا ایک بینک واقعہ
English
تحریر: ظہیر الله
تبلیغی جماعت کا کام بلاشبہ بہت اچھا ہے۔ اس میں نماز، ذکر و اذکار اور دیگر عبادات پر بہت زور دیا جاتا ہے۔ تبلیغ میں وقت لگانے والا شخص یقیناً ان عبادات کا پابند بھی ہوتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ تبلیغ سے وابستہ لوگ عموماً پُرامن اور بے ضرر ہوتے ہیں۔
تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عبادات کے علاوہ عملی زندگی میں دین پر عمل کرنے اور اخلاقی اقدار کو فروغ دینے پر نسبتاً کم توجہ دی جاتی ہے۔ حلال اور حرام کے معاملے میں بھی کوئی خاص تربیت نظر نہیں آتی۔
جب بھی تبلیغ کا ذکر آتا ہے، مجھے نیشنل بینک چترال کا ایک واقعہ یاد آتا ہے۔ اس تناظر میں اس کا ذکر شاید مناسب ہوگا۔
ہوا کچھ یوں کہ تورکھو، کھوت سے تعلق رکھنے والا ایک شخص بیرونِ ملک سے اپنے اکاؤنٹ میں دس ہزار روپے منگواتا ہے۔ اس وقت بینک کا نظام ایسا تھا کہ بیرونِ ملک سے آنے والی رقم براہِ راست اکاؤنٹ میں جمع نہیں ہوتی تھی بلکہ پہلے ہیڈ آفس کے ذریعے برانچ تک پہنچتی اور پھر متعلقہ اکاؤنٹ میں جمع کی جاتی تھی۔
اسی پراسیس کے دوران ہمارے ایک افسر سے غلطی ہوئی اور یہ دس ہزار روپے چترال شہر سے تعلق رکھنے والے ایک دوسرے شخص کے اکاؤنٹ میں جمع ہوگئے۔
چند دن بعد بیرونِ ملک سے شکایت موصول ہوئی کہ دس ہزار روپے متعلقہ اکاؤنٹ میں جمع نہیں ہوئے۔ چھان بین سے معلوم ہوا کہ رقم غلطی سے کسی اور کے اکاؤنٹ میں جمع ہوئی تھی اور وہ شخص رقم نکال بھی چکا تھا۔
جب مذکورہ شخص کے بارے میں معلومات حاصل کی گئیں تو پتا چلا کہ وہ ایک اچھے اور معزز خاندان سے تعلق رکھتا ہے اور نیک آدمی سمجھا جاتا ہے۔ وہ ملازمت سے ریٹائر ہو چکا تھا اور چار ماہ کے لیے تبلیغ میں گیا ہوا تھا۔ اس کی واپسی میں ابھی تقریباً ایک ماہ باقی تھا۔
ہم نے کھوت کے اس غریب بھائی سے درخواست کی کہ وہ ایک ماہ صبر کریں۔ ہم نے انہیں یقین دلایا کہ مذکورہ شخص جیسے ہی تبلیغ سے واپس آئے گا، رقم واپس لے کر ان کے اکاؤنٹ میں جمع کرا دی جائے گی۔
بالآخر وہ صاحب تبلیغ سے واپس آگئے۔ ہم بڑی مشکل سے انہیں بینک لے کر آئے۔ بینک پہنچنے پر ہم نے چائے سے ان کی تواضع کی اور پھر انہیں اصل معاملہ بتایا۔
ہم نے کہا کہ ایک غلطی کی وجہ سے ایک مزدور بھائی کے دس ہزار روپے آپ کے اکاؤنٹ میں جمع ہوگئے تھے اور آپ نے وہ رقم نکال لی۔ یہ آپ کا بینک اسٹیٹمنٹ ہے۔ لہٰذا آپ ہمیں دس ہزار روپے کا چیک دے دیں تاکہ آپ کی پنشن آنے پر ہم یہ رقم وصول کرکے اصل حقدار کے اکاؤنٹ میں جمع کرا دیں۔
ان کا جواب تھا: "اس میں میری کیا غلطی ہے؟ آپ لوگوں نے میرے اکاؤنٹ میں رقم جمع کی، میں کیوں پیسے واپس دوں؟"
ہم نے انہیں سمجھایا کہ رقم آپ کے اکاؤنٹ میں جمع ہونا ہماری غلطی تھی اور ہم اس کی ذمہ داری تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن رقم نکال کر خرچ کرنا آپ کی غلطی ہے، کیونکہ وہ رقم آپ کی نہیں تھی۔
مگر وہ اپنی بات پر اڑ گئے۔ ان کا کہنا تھا: "پیسے میرے اکاؤنٹ میں کیوں جمع ہوئے؟ جب جمع ہوئے تو میں نے نکال لیے اور خرچ کر دیے۔ اب میں واپس کیوں کروں؟"
ہم حیران رہ گئے۔ پھر بھی میں نے اسٹاف کو باہر بھیج کر اکیلے میں انہیں سمجھانے کی کوشش کی۔
میں نے کہا: "دیکھیں، آپ کو تبلیغ سے واپس آئے ابھی چند ہی دن ہوئے ہیں۔ یہ کسی اور کے پیسے ہیں۔ آپ کے لیے یہ حرام ہیں۔ خدارا یہ غلط کام نہ کریں۔ خاص طور پر یہ بات بھی سوچیں کہ جس شخص نے یہ پیسے بھیجے ہیں اور جس افسر نے غلطی سے یہ رقم آپ کے اکاؤنٹ میں جمع کی، دونوں اسماعیلی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ شاید انہیں مسلمان بھی نہ سمجھتے ہوں۔ لیکن جو کام آپ اس وقت کر رہے ہیں، کیا چار ماہ تبلیغ میں گزار کر آنے والا ایک مسلمان یہ کام کر سکتا ہے؟"
میں نے مزید کہا: "آپ خود کو صرف دس ہزار روپے کے لیے کیوں شرمندہ کر رہے ہیں؟ اگر ضرورت پڑی تو ہم یہ رقم اپنی جیب سے ادا کر دیں گے۔ لیکن آپ یہ حرام رقم کھا کر کس منہ سے اللہ کے سامنے نماز میں کھڑے ہوں گے؟"
لیکن ان کا جواب پھر بھی وہی تھا: "میرے اکاؤنٹ میں پیسے کیوں جمع ہوئے؟ میرا کیا قصور ہے؟ میں کیوں پیسے دوں؟"
وہ ایک خاصا پڑھا لکھا آدمی تھا اور ہماری بات کو اچھی طرح سمجھ رہا تھا، لیکن اس کے باوجود اس نے رقم واپس نہیں کی۔
آخرکار ہمیں مجبوراً اپنی جیب سے دس ہزار روپے جمع کرکے کھوت کے اس بے چارے شخص کے اکاؤنٹ میں ڈالنے پڑے۔
وہ صاحب آج بھی لمبی داڑھی اور پگڑی کے ساتھ تبلیغی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
اللہ پاک ہم سب کو دین کو صحیح معنوں میں سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔