چترال میں عالمی تبلیغی اجتماع کا انعقاد

English

بین الاقوامی تبلیغی اجتماع آج شام چترال شہر میں شروع ہونے والا ہے۔ بڑے اجتماع کی توقع کے پیش نظر چترال پولو گراؤنڈ کو تیار کیا جا رہا ہے۔

تبلیغی جماعت بلاشبہ آج دنیا کی سب سے بڑی عوامی اسلامی تحریکوں میں سے ایک ہے، جو 150 سے زائد ممالک میں موجود ہے۔ اس کا عالمی مرکز رائیونڈ، لاہور کے قریب، جبکہ دوسرا بڑا مرکز بنگلہ دیش کے ٹونگی میں ہے۔ ان دونوں مقامات پر سالانہ اجتماعات ہوتے ہیں جن میں تقریباً 20 لاکھ تک افراد شریک ہو سکتے ہیں۔

بہت سے مسلمان، پاکستان اور دنیا بھر میں، تبلیغی جماعت کے منظم تبلیغی دوروں (خروج) کی طرف اس لیے متوجہ ہوتے ہیں کہ انہیں روزمرہ زندگی سے کچھ عرصہ دور رہ کر روحانی سکون، بھائی چارے اور زندگی میں مقصد کا احساس ملتا ہے۔

تبلیغی جماعت کا بنیادی زور دینی عمل کو زندہ کرنے پر ہے۔ اس میں باقاعدگی سے نماز پڑھنا، مسجد میں حاضری، اللہ کا ذکر اور عبادات و ذاتی زندگی میں نبی کریم ﷺ کے طریقے کی پیروی شامل ہے۔ تبلیغی بیان عموماً ’’چھ نکات‘‘ کے گرد گھومتے ہیں، جن میں ایمان، نماز، علم، مسلمانوں کی عزت و احترام، اخلاص اور دعوت کے لیے وقت نکالنا شامل ہیں۔

یہ عبادات پر مبنی طریقہ تبلیغی جماعت کے تیزی سے پھیلنے کا ایک اہم سبب بنا ہے، خاص طور پر پاکستان میں، جہاں اس کا اثر مساجد اور محلوں تک گہرا ہے۔

تاہم، ایک عام مشاہدہ  یہ ہے کہ تبلیغی بیانات میں اخلاقی کردار پر اتنا واضح زور نہیں دیا جاتا۔ یعنی ایک نیک مسلمان کہلانے سے پہلے ایک اچھا انسان بننے پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی۔ سچائی، انصاف، دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک، لوگوں کے حقوق کی حفاظت اور اللہ کی تمام مخلوق کے لیے باعثِ رحمت بننے جیسے موضوعات پر نسبتاً کم زور دیا جاتا ہے۔

اگر تبلیغی جماعت صرف ایک سال کے لیے سچائی کو اپنی دعوت کا مرکزی موضوع بنا لے، مسلمانوں کو بار بار جھوٹ سے بچنے کی تلقین کرے اور قرآن کی اس سخت تنبیہ کو نمایاں کرے کہ ’’جھوٹ بولنے والوں پر اللہ کی لعنت ہو‘‘ (سورۂ آل عمران، آیت 61)، تو اس سے مسلم معاشروں کے روزمرہ کردار میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔

اگر عبادات کے ساتھ روزمرہ اخلاق اور کردار سازی کو بھی اولین اہمیت دی جائے تو پاکستان اور دیگر مسلم معاشروں میں بازاروں، گھروں اور عوامی زندگی میں اعتماد بہتر ہو سکتا ہے۔

یہ تبدیلی شاید ایسی تبلیغ سے بھی زیادہ مؤثر ثابت ہو جو صرف نماز اور ظاہری مذہبی اعمال پر زور دے، لیکن روزمرہ زندگی میں اچھے کردار کی تعمیر کو نظر انداز یا کم اہم سمجھے۔

— سی این رپورٹ، 20 ستمبر 2026

Share:

Comments (6)

  • Fardad Ali Shah September 20, 2026

    During the collective prayer at the end of the ijtimaa, the prayer leader should pray for the betterment of all humanity and not only muslims, because our Allah is “Rabul Alameen (رب العالمین)” – Lord of all the worlds / Lord of all creation and our Holy prophet (PBUH) is “Rahmat-ul-Alameen (رحمت للعالمین)” – Mercy to all the worlds/ Mercy for all creation.

  • Ehtisham September 20, 2026

    Let us see how much is preached about ‘huqooq ul ibaad’ during the ijtima, beacuse this is the biggest problem with us muslims today.

  • Maasood Abbas September 20, 2026

    I request the organisers of Ijtimaa to ask the paricipants to clean the area before they leave the venue. It is normally seen that piles of garbage are left behind when the ijtimaa is over and particcipants gone.

  • Faridul Haq September 20, 2026

    If the Tableeghi jamaaat or other preachers are reluctant to dwell upon the issue of Huqqoq ul Ibaad, then another movement should be launched, like the tableeghi jamaat, which should have the primary atribute/sunnat of the holy prophet (PBUH) i.e being Saadiq and Ameen (truthful and trustworthy) as it’s main agenda.

  • Sultan mehmood September 20, 2026

    You have drawn the attention of the Tablighis to a very important aspect of the dawat. Instead of emphasising only on rituals they must emphasise on ethical and social values and good deeds.

  • Zahirullah September 22, 2026

    بھترین پوسٹ – تبلیغی جماعت کا کام بھترین ھے – اس مین نماز اور ذکر و اذکار پر بھت زور دیا جاتا ھے اور تبلیغ مین وقت لگانے والا شخص یقینا” پابند بھی ھوتا ھے اور یہ انتھای بے ضرر لوگ ھین – یہ بھی حقیقت ھی کہ تبلیغ مین عبادات کے علاوہ عملی ذندگی مین دین پر عمل کرنے اور اخلاقی اقدار پر بھت کم توجھ دی جاتی ھے- حلال اور حرام کو بلکل نھی چھڑا جاتا ھے کوی تربیت اس سلسلے مین نھی ھے-جب بھی تبلیغ کا ذکر اتا ھے مجھے نیشنل بنک چترال کا اک واقعہ یاد اتا ھے – اس تناظر مین اس کا ذکر فروری لگتا ھے – ھوا کچھ یون کہ تورکھو کھوت سے تعلق رکھنے والا اک آدمی باھر سے اپنے اکانٹ مین دس ھزار روپے بیجھتا ھے – اس وقت بنک کا سسٹم اسطرح تھا کہ وھاان سے ڈیرکٹ اکاؤنٹ مین نھی اتے تھے بلکہ ھڈ افس کے زریعے برانچ سے اکاؤنٹ مین جمع ھو تے تھے – اس پراسس کے دوران ھمارے اک آفیسر نے علطی سے وھ رقم یھان پراپر چترال سے تعلق رکھنے والے اک آدمی کے اکاؤنٹ مین جمع کیا- کچھ دن بعد باھر سے شکایت درج ھوی کہ کہ دس ھزار روپے جمع نھی ھوے ھین – چھان بین سے پتا چلا کہ رقم کسی اور کے اکانٹ مین جمع ھوے ھین اور اس نے رقم نکال لیا ھے – جب موصوف کے متعلق تفتیش کی تو پتہ چلا کی وھ بھت اچھے خاندان سے تعلق رکھتا ھے اور نیک آدمی ھے اور ملازمت سے ریٹائر ھو کر چار مھینے کے لیے تبلیغ پر گیا ھے مھینے بعد واپس اےگا- ہم نے کھوتونھونھی والے بھای سے درخواست کہ ک اک مھینا صبر کرین موصوف جوبھی اجاے گا رقم اپ کے اکاؤنٹ مین جمع ھونگے – بھرحال موصوف تبلیع سے آگایا ھم نے ان کو بلایا تو بڑی مشکل سے ھم ان کو بنک تک لے اے- جب بنک آگے تو ھم نے چاے سے تواضع کی اور پھر مدعا بتا دیا کہ اسطرح علطی سے کسی مزدور بھای کے دس ھزار روپے آپ کے اکاؤنٹ مین جمع ھوے ھین اور آپ نے وھ رقم نکالے ھین یہ آپکا سٹئٹمنٹ ھے لھذا آپ ھمین چک دے دین تاکہ آپ کا پنشن جمع ھونے پر رقم نکال کر اصل حقدار کے اکاؤنٹ مین جمع کرین- تو موصوف کا جواب تھا کہ اس مین میری کیا علطی اپ لوگون نے میرے اکانٹ مین جمع کے مین کیون پیسے دے دون- ھم نے سمجھایا کی علطی انٹری کی حد تک ھماری ھے مانتے لیکن پیسے نکال کر اپ نے کھاے ھین جو کہ اپ کے نھی ھین- بس وھ اڑ گیا کہ پیسے میرے اکاؤنٹ مین جمع کیون ھوے جب جمع ھوے مین نے نکال لیا اور کھا لیا اب واپس کیون کرون- ھم ھکا بکا رھ گے پھر بھی آرام سے مین نے سٹاف کو باھر نکال کر اکیلے مین ان کو سمجھانے کی کوشش کی کہ دیکھے اپ ابھی چند دن ھوے تبلیع سے اے ھین یہ کسی اور کے پیسے ھین اپ کے لیے ی حرام ھے یہ علط کام نہ کرین اور خاص کر وھ جو پیسے بیجھنے والا ھے وھ بھی اور یھان پر جس آفیسر نے علطی سے اپ یکے اکاؤنٹ مین یہ دس ھزار روپے جمع کی ھے وھ بھی دونون اسماعیلی مسلک سے تعلق رکھتے ھین اور ان کو اپ مسلمان بھی نھی سمجھتے ھین لیکن اب جو کام اپ کر رھے ھین یہ کیا ی کام چار ماھ تبلیع گزار کر انے والا مسلمان کر سکتا ھے اب خود کو کیون شرماتے ھین یہ دس ھزار ھم اپنی جیب سے جمع کرینگے اپ یہ حرام کھا کر کس مونہ سے نماز مین آللہ کے سامنے کھڑے ھونگے – جواب پھر وھی کہ میرے اکاؤنٹ کیون جمع ھوے میرا کیا قصور ھے مین کیون پیسے دون – ٹھیک ٹھاک پڑھا لکھا آدمی سب کچھ سمجھتے ھوے بھی نھی دی تو ھم نے اپنی جیب سے مجبورا” کھوت والے بچارے کے اکاؤنٹ مین جمع کیے- وھ موصوف اب بھی لمبھی داڑھی اور پگڑھی کے ساتھ تبلیع مین سرگرم ھے – اللہ پاک ان کو دین کو سمجھنے کی توفیق عطا فرماین – طوالت کے لیے معزرت-

Leave a Comment