چترال: حاجی مغفرت شاہ کے گھر کی چاردیواری مسمار کرنے پر جماعت اسلامی کا شدید احتجاج
English
چترال: امیر جماعت اسلامی لوئر چترال وجیہ الدین نے سابق ڈسٹرکٹ ناظم حاجی مغفرت شاہ کے گھر کی چاردیواری مسمار کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے انتظامی اختیارات کا ناجائز استعمال، شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی اور گھروں کی نجی زندگی کے تقدس پر حملہ قرار دیا ہے۔
احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تجاوزات کے خاتمے کے نام پر کسی کے گھر میں داخل ہونا، نجی املاک کو نقصان پہنچانا اور قانونی نوٹس و تقاضے پورے کیے بغیر چاردیواری مسمار کرنا سرکاری اختیارات کا شرمناک استعمال ہے۔ اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے خود قانون کی خلاف ورزی کریں تو عام شہری انصاف کے لیے کس سے رجوع کریں؟
مظاہرے سے جمعیت علمائے اسلام چترال کے امیر مولانا عبدالرحمان اور جماعت اسلامی چترال کے نائب امیر مولانا جمشید احمد نے بھی خطاب کیا۔
مقررین نے کہا کہ قانون کی حکمرانی کا مطلب سرکاری افسران کو شہریوں کی عزت، آبرو اور نجی املاک پامال کرنے کی اجازت دینا نہیں۔ کسی بھی کارروائی سے پہلے قانونی نوٹس دینا، متاثرہ فریق کا مؤقف سننا اور مقررہ قانونی طریقہ کار اختیار کرنا ضروری ہے۔
وجیہ الدین نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی تجاوزات کے خاتمے اور قانون کی عمل داری کی حامی ہے، تاہم قانون کے نام پر قانون شکنی اور شہریوں کی تذلیل برداشت نہیں کرے گی۔
انہوں نے واقعے میں ملوث افسران کے فوری تبادلے، غیر جانب دارانہ تحقیقات، متاثرہ خاندان کو معاوضے اور پیشگی قانونی نوٹس کے بغیر مسماری پر پابندی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی اس واقعے کے خلاف بھرپور احتجاج کرے گی۔
دریں اثنا، سینئر قانون دان ظفر حیات نے جماعت اسلامی کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وضاحت کی کہ مذکورہ جگہ تجاوزات کے زمرے میں نہیں آتی، کیونکہ اس کے بدلے حکومت کے ساتھ ملحقہ جگہ کا تبادلہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے اپنے مؤقف کے ثبوت میں دستاویزات بھی پیش کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کارروائی کے دوران قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔