گرم چشمہ میں خُضار اسپورٹس ایرینا کا افتتاح، نوجوانوں کے لیے صحت مند سرگرمیوں کی نئی سہولت
English
گرم چشمہ: وادی مُردان میں بچوں اور نوجوانوں کو کھیلوں کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے قائم کردہ خُضار اسپورٹس ایرینا کا افتتاح 18 اکتوبر 2026 کو ایک پروقار تقریب میں کیا گیا۔ تقریب میں علاقے کی اہم سماجی شخصیات، عمائدین اور کھیلوں سے دلچسپی رکھنے والے افراد نے شرکت کی
تقریب کے شرکاء نے اس منصوبے کو وادی مُردان کے لیے ایک اہم تحفہ قرار دیتے ہوئے اس کے بانی ذوالفقار علی خان اور ان کے والد جہانگیر خان کی کاوشوں کو سراہا۔
وادی مُردان (گرم چشمہ) تقریباً 800 گھرانوں پر مشتمل ہے، جہاں پہاڑی اور ڈھلوانی جغرافیائی ساخت کے باعث کھیلوں کے مناسب میدانوں کی کمی رہی ہے۔ اسی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے ذوالفقار علی خان نے تقریباً ایک سال قبل خُضار فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی۔ ان کے والد جہانگیر خان نے اس مقصد کے لیے اتراۓ میں اپنی زیرِ کاشت زمین کا ایک وسیع رقبہ مختص کیا۔ ایک سال کی مسلسل محنت کے بعد اسپورٹس ایرینا کی ابتدائی تعمیر مکمل ہوئی، جبکہ اس کی مزید بہتری اور توسیع کا کام جاری ہے۔
تقریب کی نظامت سردار اعظم نے کی، جبکہ عزیز جلال نے تلاوتِ کلام پاک کی سعادت حاصل کی۔ شرکاء میں اسماعیلی لوکل کونسل کے صدر جمیل احمد، سابق صدور فضل حمید اور دلارم خان، سابق ریجنل پریذیڈنٹ محمد افضل، شیرین خان ایڈووکیٹ، محمد کرم (آر پی ایم)، خدا پناہ استاد، منیجر محمد عیسیٰ، رحیم اللہ، ڈاکٹر معراج اور مصباح الدین (اے ایس آئی) سمیت دیگر شخصیات شامل تھیں۔ ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر اور ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفیسر اپنی مصروفیات کے باعث تقریب میں شرکت نہ کر سکے۔
مقررین نے ذوالفقار علی خان کے وژن اور جہانگیر خان کی مالی و عملی معاونت کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مینور اور رحمت جوان چرویل کے سماجی ورثے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے ایک قابلِ قدر منصوبے کی بنیاد رکھی ہے۔
مُردان ویلی سے تعلق رکھنے والے عبدالقیوم ناظم، عبداللہ خان، میر عجب شاہ، اسلام شاہ اور محمد رحیم نے بھی خُضار فاؤنڈیشن کے قیام کو علاقے کے لیے ایک بہترین تحفہ قرار دیا۔
اپنے خطاب میں ذوالفقار علی خان نے بتایا کہ فاؤنڈیشن کا بنیادی مقصد بچوں اور نوجوانوں کو منشیات، بوریت اور منفی سرگرمیوں سے دور رکھ کر کھیلوں اور دیگر صحت مند سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف دیہات کے نوجوانوں کو ایک دوسرے کے قریب لانا، ان کی صلاحیتوں کو نکھارنا اور تعلیم و کھیل کے میدان میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا بھی اس کے مقاصد میں شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت اسپورٹس ایرینا میں فٹ بال، والی بال، بیڈمنٹن اور جم کی سہولیات موجود ہیں، جبکہ مستقبل میں لائبریری اور اسپورٹس کلب قائم کرنے کا بھی منصوبہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے میں ذاتی زمین اور خطیر سرمایہ صرف کیا گیا ہے، تاہم اس کا مقصد منافع کمانا نہیں بلکہ معاشرے کی بہتری میں اپنا حصہ ڈالنا ہے۔
افتتاحی تقریب کے موقع پر تین دلچسپ مقابلے بھی منعقد ہوئے، جن میں سینئر کھلاڑیوں اور نوجوانوں کے درمیان فٹ بال میچز اور رسہ کشی شامل تھی۔ سکندر خان چرویل نے کھیلوں کے آغاز پر مختصر خطاب کیا اور کھلاڑیوں کے ساتھ تصاویر بھی بنوائیں۔ مُردان کلسٹر کی ٹیم نے تینوں مقابلوں میں کامیابی حاصل کی۔
تقریب کے اختتام پر مہمانوں اور عمائدین کو روایتی چترالی ٹوپیاں اور ہار پہنائے گئے، جبکہ تمام شرکاء کے لیے ظہرانے کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔ جہانگیر خان نے اختتامی کلمات میں شرکاء کی آمد اور تعاون پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
خُضار اسپورٹس ایرینا کا قیام اس حقیقت کی ایک مثال ہے کہ مقامی سطح پر ذاتی وژن، وسائل اور اجتماعی جذبے کو بروئے کار لا کر نوجوان نسل کے لیے مثبت تبدیلی کے راستے کھولے جا سکتے ہیں۔