ہز ہائینس آغا خان کی جانب سے پیروکاروں کو اسکرین کے ضرورت سے زیادہ استعمال سے خبردار کیا گیا
English
چترال: ہز ہائینس پرنس رحیم الحسینی، آغا خان پنجم اور دنیا بھر کے اسماعیلی مسلمانوں کے امام، نے اپنے ایک پیغام (فرمان) میں پیروکاروں کو اسکرین کے ضرورت سے زیادہ استعمال کے ممکنہ منفی اثرات سے خبردار کیا ہے۔ ان کے پیغام کا خلاصہ اور تجزیہ ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے:
ہم ایک ایسے دور میں رہ رہے ہیں جہاں اسکرین محض ایک آلہ نہیں رہی بلکہ ہماری عادت، ہماری لت اور آہستہ آہستہ ہمارے ذہنی ماحول کا حصہ بن چکی ہے۔ اب ہم صرف اپنے دن کے چند گھنٹے اسکرین کے حوالے نہیں کرتے بلکہ اپنی توجہ، خاموشی اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بھی اس کے سپرد کرتے جا رہے ہیں۔ اسکرین کے سامنے ضرورت سے زیادہ وقت گزارنا محض آنکھوں کی تھکن یا نیند کی خرابی کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ہمارے دماغ کے کام کرنے اور معلومات کو سمجھنے کے طریقے کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
سوشل میڈیا ہمارے دماغ کو نئے انداز میں ڈھال رہا ہے، لیکن یہ کسی علاج یا بہتری کا عمل نہیں بلکہ ایک ایسا تجربہ ہے جس کے طویل مدتی نتائج ابھی پوری طرح سامنے نہیں آئے۔ ہر نوٹیفکیشن ذہن کو اچانک متوجہ کرتا ہے، ہر بار اسکرین پر آگے بڑھنا کسی خیال کا تسلسل توڑ دیتا ہے اور ہر نئی ویڈیو ایک نئی توجہ طلب مصروفیت پیدا کرتی ہے۔ انسانی دماغ جو گہرائی، تسلسل اور خاموشی میں بہتر انداز سے سوچنے کی صلاحیت حاصل کرتا ہے، اب منتشر اور ٹکڑوں میں بٹی ہوئی معلومات کا عادی بنتا جا رہا ہے۔ ہماری توجہ کا دورانیہ کم ہو رہا ہے، صبر نایاب ہوتا جا رہا ہے اور یکسوئی کی صلاحیت بتدریج ختم ہو رہی ہے۔
شاید ہم اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں ہچکچائیں، لیکن اس بارے میں تشویش بڑھ رہی ہے کہ اسمارٹ فون معلومات کو سمجھنے اور ان پر غور کرنے کی ہماری صلاحیت کو کمزور کر رہے ہیں۔ معلومات کی بے پناہ فراوانی نے لازماً ہمیں زیادہ عقل مند یا سمجھ دار نہیں بنایا۔ ہم بہت کچھ جانتے ہیں لیکن اس کی گہرائی کو کم سمجھتے ہیں۔ ہم فوری ردِعمل تو دیتے ہیں لیکن ٹھہر کر غور کرنے کی عادت کھوتے جا رہے ہیں۔ تنقیدی سوچ کے لیے سوال اٹھانا، وقت دینا اور خاموشی اختیار کرنا ضروری ہے، مگر یہ تینوں چیزیں مسلسل شور اور مصروفیت کی نذر ہوتی جا رہی ہیں۔
یہ کہنا آسان ہے کہ ٹیکنالوجی خود مسئلہ نہیں بلکہ اس کا غلط استعمال مسئلہ ہے، لیکن یہ بات مکمل حقیقت نہیں۔ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز اس انداز میں بنائے گئے ہیں کہ وہ انسانی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں، خصوصاً ہماری توجہ حاصل کرنے، دوسروں سے پذیرائی لینے اور فوری خوشی یا تسکین حاصل کرنے کی خواہش سے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ صرف ہم اپنے فون استعمال نہیں کر رہے بلکہ ہمارے فون بھی ہمیں اپنے استعمال میں لا رہے ہیں۔ ہماری عادات، ترجیحات اور حتیٰ کہ دنیا کو دیکھنے اور سمجھنے کا انداز بھی آہستہ آہستہ تبدیل ہو رہا ہے۔
اصل خطرہ صرف یہ نہیں کہ ہم کم پڑھ رہے ہیں بلکہ یہ ہے کہ ہم کم سوچ رہے ہیں۔ گہری سوچ کی جگہ سطحی سمجھ، سوالات کی جگہ محض آرا اور علم و فہم کی جگہ شور اور بے مقصد معلومات لے رہی ہیں۔ اگر یہی رجحان جاری رہا تو ایک ایسی نسل پروان چڑھ سکتی ہے جو ہر بات پر فوری ردِعمل تو دے گی، لیکن کسی معاملے پر ٹھہر کر گہرائی سے سوچنے کی صلاحیت کھو دے گی۔
اصل سوال یہ نہیں کہ اسمارٹ فون اچھے ہیں یا برے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی اپنے ذہنوں کے مالک ہیں یا ہم نے انہیں ان چمکتی ہوئی اسکرینوں کے حوالے کر دیا ہے جو ہمیں ہر وقت مصروف تو رکھتی ہیں لیکن ضروری نہیں کہ ہمیں ذہنی طور پر بیدار بھی رکھیں۔
کیا ہم ٹیکنالوجی کے مالک بن چکے ہیں یا ہم نے ٹیکنالوجی کو اپنے ذہنوں کا مالک بننے دیا ہے؟