چترال میں بینک منیجرز پر اہداف پورے کرنے کے لیے دباؤ

English

چترال میں بینک منیجرز کو مبینہ طور پر اپنے بینکوں کے اعلیٰ حکام کی جانب سے بھاری اہداف پورے کرنے اور دوسرے بینکوں کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے مسلسل دباؤ کا سامنا ہے۔ تاہم، بینکوں کے عملے کا کہنا ہے کہ چترال کی مقامی معیشت اتنی بڑی نہیں کہ وہ بینکوں سے وابستہ توقعات کے مطابق بھاری رقوم جمع کر سکے۔

چترال میں 22 سے زیادہ بینک برانچیں کام کر رہی ہیں، لیکن یہاں کی معاشی سرگرمیاں اتنی وسیع نہیں کہ تمام برانچوں کے لیے مطلوبہ کاروبار اور رقوم جمع کرنے کے اہداف آسانی سے پورے ہو سکیں۔ علاقے کے زیادہ تر لوگ تنخواہوں، چھوٹے کاروبار، زراعت، سیاحت اور محدود مقامی وسائل پر انحصار کرتے ہیں۔ بہت سے خاندان خوراک، تعلیم، علاج اور دیگر ضروری اخراجات پورے کرنے کے بعد بچت کرنے کے قابل نہیں رہتے۔

چترال کے ایک سینئر بینکر نے چترال نیوز کو بتایا کہ بینک منیجرز اکثر ایسے مواقع کے منتظر رہتے ہیں جب کوئی شخص اپنی زمین یا جائیداد فروخت کرے یا حکومت کسی کی نجی زمین حاصل کرکے اس کے عوض معاوضہ ادا کرے۔ ایسی صورتوں میں لوگوں کے پاس بڑی رقم آ سکتی ہے، جسے بینک میں جمع کرانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ اس کے برعکس عام حالات میں بڑی رقوم کے نئے ڈپازٹس حاصل کرنا ایک مشکل کام ہے۔

بینکر کے مطابق بھاری اہداف پورے کرنے کے لیے مسلسل دباؤ بہت سے ملازمین کے لیے ذہنی تناؤ کا باعث بن رہا ہے۔ بعض بینک ملازمین مبینہ طور پر ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور نفسیاتی پریشانیوں کا شکار ہیں، جنہیں وہ کام کے مسلسل دباؤ سے جوڑتے ہیں۔ ماضی میں بعض منیجرز نے اس دباؤ کو برداشت نہ کر سکنے کے باعث اپنے عہدوں سے استعفیٰ بھی دیا ہے۔

ایک اور سینئر بینکر نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، چترال نیوز سے درخواست کی کہ اس مسئلے کو اجاگر کرکے بینکوں کے اعلیٰ حکام کی توجہ مقامی منیجرز کی مشکلات کی جانب مبذول کرائی جائے۔

بینکنگ ایک اہم خدمت ہے اور کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اہداف ضروری ہیں۔ تاہم، یہ اہداف ہر علاقے کے معاشی حالات کو سامنے رکھ کر مقرر کیے جانے چاہییں۔ ایک چھوٹے اور محدود معیشت والے ضلع سے بڑے تجارتی شہر جتنی توقعات رکھنا غیر منصفانہ بھی ہو سکتا ہے اور نقصان دہ بھی۔

بینکوں کی اعلیٰ انتظامیہ کو چاہیے کہ حقیقت پسندانہ اہداف مقرر کرے، اپنے ملازمین کا ساتھ دے اور ان کی صحت و فلاح کا خیال رکھے۔ مسلسل دباؤ کے بجائے مطمئن ملازمین اور پائیدار بینکاری طریقوں سے بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

Share:

Leave a Comment