گاڑیاں خریدنے کے لیے قرض کے ڈالر: پاکستان کی معاشی ترجیحات کا مسئلہ
English
پاکستان نے مالی سال 2025–26 کے دوران گاڑیوں اور ان کی اسمبلنگ کے لیے پرزوں کی درآمد پر تقریباً 2.5 ارب ڈالر خرچ کیے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تقریباً اتنی ہی رقم پاکستان کو عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مالی امداد کے طور پر ملی۔ اس صورت حال سے ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: جب ملک بیرونی قرضوں اور معاشی مشکلات کا شکار ہے تو درآمدی گاڑیوں پر اربوں ڈالر کیوں خرچ کیے جا رہے ہیں؟
مسئلہ صرف گاڑیوں کی درآمد نہیں بلکہ پاکستان کی آٹو موبائل صنعت کا ڈھانچہ بھی ہے۔ زیادہ تر مقامی کار ساز کمپنیاں بیرون ملک سے پرزے اور اسمبلنگ کٹس منگواتی ہیں، انہیں پاکستانی کارخانوں میں جوڑتی ہیں اور تیار گاڑیاں مقامی مارکیٹ میں فروخت کرتی ہیں۔ اس طرح پاکستان کا قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے، لیکن گاڑیوں کی برآمد سے ملک کو بہت کم آمدنی حاصل ہوتی ہے۔
مضمون کے مطابق مالی سال 2025–26 میں گاڑیوں کے پرزوں کی درآمد میں نمایاں اضافہ ہوا۔ مکمل تیار شدہ گاڑیوں اور استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد بھی بڑھی۔ اس کا مطلب ہے کہ جب صارفین کی قوتِ خرید بہتر ہوتی ہے تو ملک کی صنعت کو مضبوط بنانے کے بجائے زیادہ ڈالر بیرون ملک چلے جاتے ہیں۔
پاکستان کی آٹو پالیسیوں کے نتیجے میں غیر ملکی سرمایہ کاری آئی اور کوریائی و چینی کمپنیوں سمیت نئے کار ساز اداروں نے مارکیٹ میں قدم رکھا۔ تاہم، یہ صنعت اپنی برآمدی صلاحیت سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہی ہے۔ مقامی پرزوں کی تیاری، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی اور برآمدات کے لازمی اہداف کے بغیر پاکستان غیر ملکی کمپنیوں کی مصنوعات کی منڈی بن کر رہ سکتا ہے۔
دوسرے ممالک کی مثالیں ہمارے لیے سبق رکھتی ہیں۔ جنوبی کوریا نے اپنی گاڑیوں کی صنعت کو عالمی برآمدی قوت بنایا۔ ملائیشیا نے اپنی قومی کار صنعت قائم کی اور بعد میں چین کی کمپنی جیلی کے ساتھ شراکت داری کی۔ بھارت بھی گاڑیوں کی برآمد سے اربوں ڈالر کماتا ہے۔ اس کے مقابلے میں پاکستان گاڑیوں کی درآمد پر بھاری رقم خرچ کرتا ہے، لیکن برآمدات سے بہت کم کماتا ہے۔
مصنف مہنگی الیکٹرک گاڑیوں کو بھی پاکستان کی ترجیح بنانے پر سوال اٹھاتے ہیں۔ ملک کو پیٹرولیم کی بھاری درآمدات کم کرنے کی ضرورت ہے، لیکن عام شہریوں کے لیے سستی الیکٹرک موٹر سائیکلیں اور رکشے زیادہ فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کو ایسی آٹو پالیسی کی ضرورت ہے جو ڈالر خرچ کرنے کے بجائے ڈالر کمائے۔ حکومت کو مراعات اور مارکیٹ کے تحفظ کو برآمدی کارکردگی سے منسلک کرنا چاہیے، مقامی پیداوار بڑھانی چاہیے، ٹیکنالوجی کی منتقلی کو یقینی بنانا چاہیے اور سستی ٹرانسپورٹ کو فروغ دینا چاہیے۔
بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبے ملک کے لیے زرمبادلہ محض خرچ کرنے کی چیز نہیں ہونا چاہیے۔ اسے صنعتوں کی تعمیر، روزگار کی فراہمی اور برآمدات میں اضافے کے لیے استعمال کرنا ضروری ہے۔