کیا یہ محض خوش فہمی ہے؟ حکومت کو اربوں ڈالر کے معاشی فوائد کا امکان نظر آ گیا
English
پاکستان ڈیجیٹل نظام کو بہتر بنا کر اگلے پانچ سال میں 60 سے 80 ارب ڈالر تک کے معاشی فوائد حاصل کر سکتا ہے۔ یہ تخمینہ پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی (PDA) کی جانب سے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی اور ٹیلی کام کو دی گئی بریفنگ میں پیش کیا گیا۔
اس بریفنگ میں بتایا گیا کہ سرکاری نظام میں اصلاحات اور معیشت کے اہم شعبوں کو ڈیجیٹل بنانے سے ملک کی معاشی ترقی تیز ہو سکتی ہے، عوام کو بہتر سرکاری خدمات فراہم کی جا سکتی ہیں اور ڈیجیٹل معیشت کو وسعت دی جا سکتی ہے۔
پاکستان میں پہلے ہی 100 سے زیادہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم بنائے جا چکے ہیں اور مختلف ڈیجیٹل منصوبے بھی شروع کیے گئے ہیں۔ لیکن سرکاری اداروں کے نظام میں باہمی رابطے کی کمی، انتظامی نااہلی اور اداروں کے درمیان عدم تعاون کی وجہ سے ان منصوبوں سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا۔
پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی نے ایک قومی ڈیجیٹل منصوبہ تیار کرنے کی تجویز دی ہے۔ اس کا مقصد ڈیجیٹل نظام کو بہتر بنانا، سرکاری اداروں کے لیے یکساں معیار مقرر کرنا، معلومات کے محفوظ تبادلے کو ممکن بنانا اور مختلف محکموں میں ان اصلاحات پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔
اس منصوبے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان بہتر رابطے پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ موجودہ نظاموں کو آپس میں جوڑا جا سکے، ایک جیسے منصوبوں پر بار بار رقم خرچ کرنے سے بچا جا سکے اور عوام کو بہتر سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔
زراعت، صحت، جائیداد اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار کو ان اصلاحات سے فائدہ اٹھانے کے اہم شعبے قرار دیا گیا ہے۔
بریفنگ کے مطابق، 2030 تک ڈیجیٹل اصلاحات سے زراعت کے شعبے میں 9 ارب ڈالر سے زیادہ کے فوائد حاصل ہو سکتے ہیں، صحت کے شعبے میں 45 کروڑ ڈالر کی بچت ممکن ہے، جائیداد کے شعبے میں مزید 15 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آ سکتی ہے، جبکہ چھوٹے کاروبار، تجارت اور ریٹیل کے شعبوں میں 6 ارب ڈالر کی اضافی آمدنی پیدا ہو سکتی ہے۔
اتھارٹی نے پاکستان ڈیجیٹل اسٹیک، معلومات کے محفوظ تبادلے اور یکساں ڈیجیٹل معیار متعارف کرانے کے منصوبوں کا بھی ذکر کیا ہے۔ اس کے علاوہ معلومات کے بہتر انتظام اور مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال پر بھی زور دیا گیا ہے۔
تاہم، یہ تمام اعداد و شمار ممکنہ فوائد کے تخمینے ہیں، حاصل شدہ معاشی نتائج نہیں۔ ان اہداف کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ حکومت ان اصلاحات پر کتنی سنجیدگی سے عمل کرتی ہے، مختلف اداروں کے درمیان رابطہ کیسے بہتر بناتی ہے اور ملک میں پہلے سے موجود ڈیجیٹل نظاموں کو کس طرح ایک دوسرے سے منسلک کرتی ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا حکومت ان بڑے دعوؤں کو عملی نتائج میں بدل سکے گی، یا یہ بھی کاغذوں تک محدود رہنے والا ایک منصوبہ ثابت ہوگا؟