قرض اتارنے میں ناکام، قرض داروں کے سربراہ!
English
پاکستان کو قرض لینے والے ممالک کے گروپ ’باروئرز پلیٹ فارم‘ (Borrowers Platform) کی گورننگ کونسل کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔ یہ اعلان تھائی لینڈ کے شہر
بینکاک میں عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاس کے دوران کیا گیا۔
پاکستان کی وزارتِ خزانہ کے مطابق، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پاکستان کی طرف سے اس عہدے کی ذمہ داری قبول کر لی۔
وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ قرض ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننے کے بجائے ترقی کا ذریعہ بننا چاہیے۔ بات تو بہت خوبصورت ہے! لیکن کوئی ہمیں یہ بھی سمجھا دے کہ قرضوں میں ڈوبا ہوا ملک آخر قرض کو ترقی کا ذریعہ کیسے بنائے گا؟
صحافی تنویر ملک کے مطابق، اگست 2026 کے اختتام تک وفاقی حکومت پر مجموعی طور پر 82 ہزار 953 ارب روپے کا قرض واجب الادا تھا، جو ایک سال پہلے اگست 2025 میں 77 ہزار 458 ارب روپے تھا۔ اس میں سے تقریباً 87 ارب ڈالر بیرونی قرضہ ہے۔
اب ذرا کمال دیکھیے! قرض واپس کرنے میں نمایاں کارکردگی دکھانے کے بجائے پاکستان کو قرض لینے والے ممالک کے کلب کی چیئرمین شپ مل گئی ہے!
شاید اسی کو پاکستانی انداز کی میرٹوکریسی کہتے ہیں: جب دولت پیدا کرنے میں دنیا کی قیادت نہ کر سکیں تو کم از کم قرض لینے میں تو کوئی نمایاں مقام حاصل کیا جا سکتا ہے!
مبارک ہو پاکستان! ہم نے شاید غربت پر قابو نہیں پایا، لیکن بین الاقوامی قرض داروں کی برادری میں ایک اہم عہدہ ضرور حاصل کر لیا ہے۔
آخر قرض دینے والا بننے کی کیا ضرورت ہے، جب قرض داروں کا چیئرمین بن کر بھی کام چل سکتا ہے؟