سابق گوگل ڈیپ مائنڈ محقق کا انتباہ، اے آئی انسانیت کو ختم کر سکتی ہے

English

رائٹرز: گوگل ڈیپ مائنڈ کے ایک سابق محقق نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) ممکنہ طور پر تمام انسانوں کی ہلاکت کا سبب بن سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا کے پاس اس خطرے کو روکنے کے لیے شاید وقت کم رہ گیا ہے۔

بلال چغتائی گوگل ڈیپ مائنڈ میں اے آئی کی حفاظت اور اسے قابو میں رکھنے کے لیے تحقیق کرتے رہے۔ انہوں نے جولائی 2026 میں کمپنی سے استعفیٰ دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ سنجیدگی سے سمجھتے ہیں کہ جدید اے آئی انسانیت کے لیے انتہائی بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔

ان کا یہ انتباہ اینتھروپک کے محقق جیکب کوکسون کے حالیہ بیان کے بعد سامنے آیا ہے۔ کوکسون نے بھی خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اے آئی اس دہائی کے اختتام تک انسانیت کو تباہ کر سکتی ہے۔

اینتھروپک کے ایک اور سائنس دان ایون ہوبنگر نے بھی کوکسون کے خدشات کی حمایت کی۔ ان کے اندازے کے مطابق اگلے دس سال میں اے آئی کے ہاتھوں تمام انسانوں کے خاتمے کا امکان 10 فیصد سے زیادہ ہے۔

چغتائی کا کہنا ہے کہ اے آئی کو محفوظ طریقے سے تیار کرنا ممکن ہے، لیکن اس کے لیے کمپنیوں کو ایک دوسرے سے مقابلے کے بجائے تعاون کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اے آئی کی ترقی کی رفتار ایسی ہونی چاہیے جسے معاشرہ سنبھال سکے، تاکہ بڑے خطرات پیدا ہونے سے پہلے ان کی نشاندہی اور روک تھام کی جا سکے۔

اینتھروپک کے سربراہ ڈاریو امودی نے بھی جدید اے آئی کی ترقی کی رفتار کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایلون مسک اور اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین نے بھی اس موقف کی حمایت کی ہے۔

تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اے آئی پر مزید پابندیوں کے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے ان انتباہات کو ’’دھوکا‘‘ قرار دیا ہے
Share:

Leave a Comment