اللہ سے ہدایت مانگنے کے باوجود ہماری دعائیں کیوں قبول نہیں ہوتیں؟
English
ہم مسلمان دن میں پانچ مرتبہ نماز ادا کرتے ہیں اور ہر نماز میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا ضرور مانگتے ہیں: اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ یعنی ’’اے اللہ! ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔‘‘ لیکن افسوس کہ مسجد سے باہر نکلتے ہی ہم اکثر اسی راستے پر چلنے لگتے ہیں جس سے بچنے کی دعا ابھی ابھی مانگ کر آئے ہوتے ہیں۔ جھوٹ، دھوکہ، فراڈ، ناانصافی، جانوروں پر ظلم، منافقت اور خود غرضی ہماری زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں۔
نماز میں کہے گئے الفاظ اور مسجد سے باہر ہمارے عمل میں یہ فرق ایک اہم سوال پیدا کرتا ہے: کیا ہماری دعا واقعی دل سے نکلتی ہے یا محض ایک رسم بن کر رہ گئی ہے؟
ہم پھر سے جھوٹ بولنے، دوسروں کو دھوکہ دینے، ان کا استحصال کرنے، ان کے حقوق دبانے اور کمزوروں پر ظلم کرنے لگتے ہیں۔ بعض لوگ تو جانوروں کے ساتھ بھی رحم کا سلوک نہیں کرتے۔ ہم اسلام پر فخر تو کرتے ہیں لیکن روزمرہ زندگی میں اس کی بنیادی تعلیمات پر عمل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی وہی چاہتے ہیں جو دن میں پانچ مرتبہ اللہ سے مانگتے ہیں؟ یا ہم نے اس خوبصورت دعا کو محض چند الفاظ دہرانے کی رسم بنا دیا ہے، جس کے معنی سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے تیار نہیں؟
اللہ سے سیدھے راستے کی ہدایت مانگنے کا مطلب صرف راستہ دکھانے کی درخواست کرنا نہیں بلکہ اس راستے پر چلنے کا عہد بھی کرنا ہے۔ نماز کا مقصد ہمارے کردار کو بہتر بنانا، ہمارے اعمال کو پاکیزہ کرنا اور ہمیں اچھا انسان بنانا ہے۔ اگر ہماری نماز ہمیں سچا، رحم دل، انصاف پسند اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنے والا نہیں بناتی تو ہمیں سنجیدگی سے سوچنا چاہیے کہ ہماری نماز ہماری زندگی پر کیا اثر ڈال رہی ہے۔
اللہ تعالیٰ کو ہماری نمازوں کی ضرورت نہیں، ہمیں ان کی ضرورت ہے۔ نماز کا مقصد صرف ایک مذہبی فریضہ ادا کرنا نہیں بلکہ اپنی اصلاح کرنا ہے۔
شاید اصل سوال یہ نہیں کہ اللہ ہماری دعائیں کیوں قبول نہیں کرتا، بلکہ ہمیں خود سے یہ پوچھنا چاہیے کہ کیا ہم واقعی اس ہدایت پر چلنے کے لیے تیار ہیں جو ہم دن میں بار بار اللہ سے مانگتے ہیں؟
۔۔۔ سی این رپورٹ، 08 نومبر 2026