پاکستانیوں کو اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے سڑکوں پر کیوں نکلنا پڑتا ہے؟

English

پاکستان میں ایسا لگتا ہے کہ عوام کے کسی مطالبے کو اس وقت تک اہمیت نہیں دی جاتی جب تک لوگ سڑکوں پر نہ نکل آئیں۔ چاہے بہتر تنخواہوں کا مطالبہ ہو، بجلی کے بلوں میں کمی، تعلیم اور صحت کی سہولتیں یا بنیادی حقوق کی بات ہو، لوگوں کو اکثر احتجاج، دھرنے اور لمبے مارچ کرنے پڑتے ہیں، تب کہیں جا کر حکومت ان کی بات سننے پر آمادہ ہوتی ہے۔

آخر ایسا کیوں ہے؟

کسی بھی حکومت کی بنیادی ذمہ داری عوام کی خدمت کرنا، ان کے مسائل سننا اور ان کی جائز شکایات دور کرنا ہے۔ لیکن پاکستان میں اکثر حکومتیں اس وقت تک بے حسی کا مظاہرہ کرتی رہتی ہیں جب تک عوام کا غصہ حد سے بڑھ نہ جائے۔ درخواستوں، پُرامن اپیلوں اور بار بار کی جانے والی گزارشات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ جب سڑکیں بند ہوتی ہیں، کاروبار متاثر ہوتے ہیں اور معمولاتِ زندگی رک جاتے ہیں، تب حکمرانوں کو عوام کی یاد آتی ہے۔

اس طرزِ عمل سے ایک خطرناک صورتِ حال پیدا ہوتی ہے۔ عوام کا اداروں پر اعتماد ختم ہونے لگتا ہے اور وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ پُرامن طریقے سے اپنی بات منوانا ممکن نہیں۔ مایوسی غصے میں بدل جاتی ہے اور بعض اوقات یہی غصہ تشدد کا سبب بنتا ہے۔ پھر حکومت یہ سوچنے کے بجائے کہ حالات یہاں تک کیوں پہنچے، مظاہرین کو ہی قصوروار ٹھہراتی ہے۔

ذمہ دار حکومت کو اپنے فرائض پورے کرنے کے لیے عوام کے دباؤ کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ اسے شکایات سننے کا مؤثر نظام بنانا، مسائل کا بروقت حل نکالنا اور غفلت برتنے والے اہلکاروں کا احتساب کرنا چاہیے۔

احتجاج عوام کا جمہوری حق ہے، لیکن انصاف حاصل کرنے کا واحد ذریعہ احتجاج نہیں ہونا چاہیے۔ اسی طرح حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ عوام کے مطالبات صرف اس وقت جائز نہیں ہو جاتے جب وہ حکمرانوں کے لیے پریشانی بن جائیں۔

جو حکومت صرف اس وقت عوام کی آواز سنتی ہے جب وہ بلند ہو جائے، وہ حکمرانی کے اصل مقصد کو سمجھنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ قیادت کا اصل امتحان احتجاج کو دبانا نہیں، بلکہ ان مسائل کو پیدا .. CN report, 11 Oct 2026  ہونے سے روکنا ہے جو لوگوں کو احتجاج پر مجبور کرتے ہیں۔

Share:

Leave a Comment