خواب، حکومت اور عام آدمی
English
از قلم: نجیم شاہ
کل رات ایک عجیب خواب دیکھا۔ معلوم ہُوا کہ ملک میں ایسی حکومت قائم ہو چکی ہے جو واقعی حکومت کر رہی ہے۔ نہ جشن کا شور، نہ مخالفین کیخلاف فہرستیں، نہ ہر دُوسرے دِن یہ اعلان کہ ملک نے دُنیا کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ حکمران خاموشی سے کام کر رہے تھے، جو خواب کی سب سے مشکوک بات تھی۔ میں نے خود کو چٹکی کاٹی تو درد ہوا۔ تب یقین آیا کہ خواب ہی ہے، کیونکہ حقیقت میں ایسے مناظر دیکھنے کیلئے چٹکی نہیں، کبھی کبھی بجلی کا بل کافی ہوتا ہے۔
خوابوں کی حکومت نے پہلے دِن اعلان کیا کہ عوام کو ہر مسئلے کا فوری حل بتانے کے بجائے پہلے مسئلہ سمجھایا جائیگا۔ یہ سُن کر مجھے یقین ہوگیا کہ حکومت واقعی خوابوں کی ہے۔ ہمارے ہاں تو مسئلہ پیدا ہونے سے پہلے ہی اسکا حل تیار ہوتا ہے، بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ مسئلہ کچھ اور تھا۔ انتخابی موسم میں وعدے بھی ایسے ہوتے ہیں جیسے دُکان پر ’’سب کچھ نصف قیمت‘‘ کا بورڈ لگا ہو۔ اقتدار ملتے ہی معلوم ہوتا ہے کہ نصف قیمت تو دُور، بورڈ بھی کرائے کا تھا۔
سرکاری دفاتر میں حکم ہُوا کہ فائلیں صرف میزوں کا سفر نہ کریں بلکہ فیصلوں تک بھی پہنچیں۔ ایک پُرانی فائل نے یہ خبر سُنی تو شاید اپنی آنکھوں پر یقین نہ کیا۔ ہمارے ہاں بعض فائلیں اتنی دُنیا دیکھ چکی ہیں کہ نئے افسر ان سے تجربہ لے سکتے ہیں۔ کبھی دستخط کا انتظار، کبھی وضاحت، کبھی منظوری اور کبھی دوبارہ وضاحت۔ خوابوں کی حکومت نے کہا کہ فائل اب اتنی ہی دیر رُکے گی جتنی دیر ایک عام آدمی اپنی باری کا انتظار کرتا ہے۔
معیشت میں بھی ایک عجیب اُصول نافذ ہوا کہ ترقی کا مطلب صرف خوبصورت اعداد و شمار نہیں بلکہ عام آدمی کی زندگی میں آسانی ہے۔ یہ جملہ سُن کر خواب میں موجود ماہرینِ معیشت نے ایک دُوسرے کو دیکھا۔ حکومت نے کہا کہ اگر معیشت ترقی کر رہی ہے تو اسکا کچھ اثر گھر کے بجٹ پر بھی نظر آنا چاہیے۔ ایک شہری نے فوراً پوچھا، ’’کیا یہ اثر بازار میں بھی دکھے گا یا صرف پریس کانفرنس میں؟‘‘ وزیر نے جواب دیا، ’’بازار میں۔‘‘ خواب میں تالیاں بجیں، شاید دُکاندار نے بھی قیمت کم کر دی۔
تعلیم اور صحت کے شعبے میں تو خواب نے حد ہی کردی۔ اسکولوں میں اُستاد موجود تھے، بچے بھی موجود تھے اور نصاب بھی وقت پر پہنچ گیا تھا۔ ہسپتال میں مریض کو بستر مل رہا تھا اور ڈاکٹر اسے دیکھ بھی رہا تھا۔ ایک نوجوان نے حکومت سے پوچھا، ’’روزگار کہاں ہے؟‘‘ جواب ملا، ’’یہاں۔‘‘ نوجوان نے حیرت سے دوبارہ پوچھا، ’’واقعی؟‘‘ جواب آیا، ’’ہاں، مگر زیادہ خوش نہ ہونا، ابھی خواب ختم نہیں ہوا۔‘‘ نوجوان نے فوراً آنکھیں بند کرلیں کہ کہیں نوکری بھی خواب کیساتھ غائب نہ ہو جائے۔
سیاست کا ماحول بھی کچھ مختلف تھا۔ اختلاف تھا مگر دُشمنی نہیں، تنقید تھی مگر انتقام نہیں۔ حکومت نے اپوزیشن کی تقریر سُنی اور اپوزیشن نے حکومت کی تقریر سُن لی۔ کسی نے یہ نہیں کہا کہ ملک آخری سانسیں لے رہا ہے۔ کل کے ساتھی آج مخالف اور آج کے مخالف کل کے اتحادی بن سکتے تھے، مگر اس خواب میں سب کو اپنی پچھلی تقریریں بھی یاد تھیں۔ شاید اِسی لیے اتحاد سے پہلے کچھ لوگ پرانی ویڈیوز دیکھ رہے تھے تاکہ یاد رہے کہ کل کیا کہا تھا۔
کابینہ کا اجلاس ہوا تو وزیراعظم نے ہر وزیر سے کہا کہ اپنی وزارت کی تین کامیابیاں اور تین ناکامیاں بتائیں۔ ایک وزیر نے گھبرا کر پوچھا، ’’ناکامیاں بھی؟‘‘ جواب ملا، ’’ہاں، تاکہ دوبارہ نہ ہوں۔‘‘ وزیر نے کچھ دیر سوچا اور بولا، ’’پھر بہتر ہے میں کامیابیاں بھی نہ بتاؤں۔‘‘ اجلاس میں قہقہہ بلند ہوا۔ مجھے لگا حکومت میں مزاح کی گنجائش پیدا ہوگئی ہے۔ شاید یہی وہ مرحلہ تھا جہاں خواب نے حکومت کو خطرناک حد تک حقیقت کے قریب پہنچا دیا۔
خواب کا سب سے خوبصورت منظر اس وقت آیا جب ایک حکومتی قافلہ سڑک سے گزرا اور عام شہری کی زندگی معمول کے مطابق چلتی رہی۔ نہ سڑک بند ہوئی، نہ مریض کی گاڑی رُکی، نہ طالبعلم کا امتحان متاثر ہوا۔ ایک رکشے والے نے پوچھا، ’’یہ کس کا قافلہ تھا؟‘‘ مسافر نے بتایا، ’’حکومت کا۔‘‘ رکشے والے نے حیرت سے کہا، ’’اچھا! ہمیں تو پتا ہی نہیں چلا۔‘‘ خواب میں اسے اچھی حکمرانی کی علامت قرار دیا گیا، حالانکہ حقیقت میں شاید اسے کوئی اور ہی نام دیا جاتا۔
حکومت نے اعلان کیا کہ آئندہ وعدے کم اور کام زیادہ ہونگے۔ ہر منصوبے کیساتھ تکمیل کی تاریخ بھی بتائی جائیگی۔ ایک صحافی نے پوچھا، ’’اگر تاریخ پر کام مکمل نہ ہوا تو؟‘‘ ترجمان نے کہا، ’’عوام کو وجہ بتائیں گے۔‘‘ صحافی نے پوچھا، ’’اور اگر وجہ قابلِ قبول نہ ہوئی؟‘‘ ترجمان خاموش ہوگیا۔ خواب میں بھی کچھ سوال ایسے تھے جن کے جواب حکومت کے پاس نہیں تھے۔ میں نے سوچا، شاید اسی خاموشی کی وجہ سے خواب ابھی تک خوبصورت ہے، ورنہ حقیقت یہاں سے شروع ہوجاتی۔
اچانک آنکھ کھل گئی۔ خوابوں کی حکومت رخصت ہو چکی تھی اور حقیقت حسبِ معمول موجود تھی۔ مسائل اپنی جگہ، وعدے اپنی جگہ اور اُمیدیں پھر مستقبل کے حوالے۔ میں نے سوچا، خواب میں سب سے عجیب چیز کیا تھی؟ فائلوں کا چلنا، ہسپتال کا کام کرنا، روزگار ملنا یا حکمران کا تعریف کے بجائے کام کرنا؟ خیال آیا کہ اصل خواب شاید یہ تھا کہ عام آدمی کو حکومت کی تقریر نہیں، حکومت کا کام یاد رہ گیا تھا۔ اور یہی خواب جاگتے ہوئے بھی دیکھنے میں کوئی حرج نہیں۔