سردار حسین شاہ: ایک شفیق استاد اور سادہ زندگی کا نمونہ
English
سردار حسین شاہ 1932ء میں چترال کے علاقے موڑکھو کے گاؤں نوغور دور میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتے تھے جہاں علم، سادگی اور خدمتِ خلق کو بنیادی اہمیت حاصل تھی۔
1952ء میں انہوں نے گورنمنٹ ہائی سکول نمبر 1 پشاور سے میٹرک کیا اور ایڈورڈز کالج میں داخلہ لیا۔ تاہم اس وقت کوغوزی کے سکول میں اساتذہ کی شدید کمی کے باعث، وزیر تعلیمِ چترال کی درخواست پر انہوں نے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر تدریس کو اپنا پیشہ بنا لیا۔ یوں ان کی زندگی علم بانٹنے اور نئی نسل کی تربیت کے لیے وقف ہوگئی۔
انہوں نے گورنمنٹ ہائی سکول بونی، وریجون، دروش، ہون اور فیض آباد سمیت مختلف اداروں میں ہیڈ ماسٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ 1987ء میں ریٹائرمنٹ کے بعد حج کی سعادت حاصل کی، مگر تدریس سے ان کا تعلق ختم نہ ہوا۔ وہ چترال پبلک سکول میں پڑھاتے رہے اور گھر پر بھی طلبہ کو بلا معاوضہ تعلیم دیتے رہے۔ انہوں نے کبھی ٹیوشن فیس نہیں لی۔
سردار حسین شاہ نہایت شفیق، نرم دل اور سادہ مزاج استاد تھے۔ ان کے کئی شاگرد آج اہم سرکاری و نیم سرکاری عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں یا دے رہے ہیں۔
یکم اکتوبر 2026ء کو وہ اس دارِ فانی سے رخصت ہوگئے۔ ان کی وفات چترال کے تعلیمی حلقوں اور ہزاروں شاگردوں کے لیے بڑا نقصان ہے۔ ان کی زندگی علم، خدمت، سادگی اور محبتِ شاگرد کی روشن مثال تھی۔
اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔