مرغابیوں کا شکار: ایک ظالمانہ مشغلہ

English
چترال: خیبر پختونخوا، بشمول چترال، میں مرغابیوں کے شکار کا سیزن شروع ہوگیا ہے۔ اردو نیوز ویب سائٹس پر شائع ہونے والی رپورٹس کا خلاصہ درج ذیل ہے: خیبر پختونخوا وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے نئے نوٹیفکیشن کے اجرا کے بعد 2026-27 کے لیے آبی پرندوں اور مرغابیوں کے شکار کا سیزن شروع ہوگیا ہے۔ چترال میں شکاریوں نے دریائے چترال کے کنارے مرغابیوں کے شکار کے لیے تالاب تیار کرنے اور نئے تالاب بنانے کا کام شروع کردیا ہے۔ چیف کنزرویٹر ڈاکٹر محسن فاروق کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق 31 دسمبر 2026 تک صرف جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو شکار کی اجازت ہوگی۔ سالانہ سمال گیم شوٹنگ لائسنس کی فیس 5 ہزار روپے جبکہ مرغابی کے شکار کی خصوصی فیس 100 روپے فی دن فی گن مقرر کی گئی ہے۔ ایک شکاری ایک دن میں ایک گن سے زیادہ سے زیادہ پانچ پرندے شکار کرسکتا ہے۔ طلوع آفتاب سے پہلے اور غروب آفتاب کے بعد شکار، الیکٹرانک آلات اور کال برڈز کے استعمال پر پابندی ہے۔ صوبے کے 53 مخصوص آبی علاقوں، ڈیموں، جھیلوں اور دریاؤں میں بھی شکار مکمل طور پر ممنوع ہے۔ دریں اثنا، چترال کے غیر شکاری شہریوں نے دریائے چترال کے کنارے مرغابیوں کے تالاب بنانے پر مکمل پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پانی کو روکنے کے لیے ریت اور مٹی سے بھری سیمنٹ کی بوریاں استعمال کی جاتی ہیں۔ اس سے پانی کا بہاؤ متاثر ہوسکتا ہے، دریائی ملبہ جمع ہوسکتا ہے اور گرمیوں میں دریا کی سطح بلند ہونے کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس عمل کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اور قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ آخر مرغابیوں کے شکار کا سیزن ہونا ہی کیوں ضروری ہے؟ لوگ ایسے مشغلے کا انتخاب کیوں کریں جس میں خوبصورت پرندوں کو مارنا شامل ہو؟ یہ پرندے ماحول کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتے بلکہ قدرت کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔ ہم مسلمان یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ رب العالمین، یعنی تمام جہانوں کا پروردگار ہے، اور ہم ایسے نبی ﷺ کے پیروکار ہیں جنہیں رحمت للعالمین کہا گیا ہے؟ ہم ان بے زبان مخلوقات پر رحم کیوں نہیں کرسکتے جو ہم سے کچھ نہیں مانگتیں، سوائے اس کے کہ انہیں زندہ رہنے اور اپنی فطری زندگی گزارنے کا حق دیا جائے؟ اور جب ہم اللہ کی مخلوق پر رحم نہیں کرتے تو پھر اللہ کی رحمت کی امید کیسے کرسکتے ہیں؟ آج جب دنیا علم، سائنس، جدید ٹیکنالوجی اور مضبوط دلیل و منطق کے دور میں داخل ہوچکی ہے، تو صرف شکار کے شوق اور مارنے کی خواہش کو پورا کرنے کے لیے ایسی قدیم روایات کو جاری رکھنے کی کیا ضرورت ہے؟ شاید اب وقت آگیا ہے کہ ہم جنگلی حیات کے بارے میں اپنی سوچ بدلیں۔ معاملہ صرف قوانین اور شکار کے لائسنس کا نہیں، بلکہ انسانیت، ایمان اور رحم و شفقت کا بھی ہے۔ .. CN رپورٹ، 24 ستمبر 2026ء
Share:

Comments (5)

  • Parvez September 24, 2026

    Very thought provoking article. I totally agree with the author.

  • Akram September 24, 2026

    A very good move launched by Chitralnews. Not only for the protection of wildlife but also for preservation of the environment. Allowing duck hunter to shoot down the very beautiful creature is akin to killing a human being, in my view, which is to be condemned by all and sundry. Killing beautiful birds perching on blue water on no count could be termed as a hobby of the affluent, and the same must be made punishable.

  • Naeem Bangash September 24, 2026

    Very good suggestions. The hunters proudly display the cruelty to hunted birds on the bonnet of their vehicles including some civil servants. Please stop cruelty to birds and all other creatures of the world and let them live in peace and prosperity. This is one of the finest beauty of nature. Let them prosper.

  • Ehsanullah September 25, 2026

    If the authorities cannot stop the killing of ducks they should at least ban the display of the massacred ducks on social media by the so called hunters who are indeed ruthless scums.

  • Asad Ul Mulk September 25, 2026

    I agree. Am also against hunting.

Leave a Comment