مرغابیوں کا شکار: ایک ظالمانہ مشغلہ
English
By Staff desk
•
September 24, 2026
چترال: خیبر پختونخوا، بشمول چترال، میں مرغابیوں کے شکار کا سیزن شروع ہوگیا ہے۔ اردو نیوز ویب سائٹس پر شائع ہونے والی رپورٹس کا خلاصہ درج ذیل ہے:
خیبر پختونخوا وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے نئے نوٹیفکیشن کے اجرا کے بعد 2026-27 کے لیے آبی پرندوں اور مرغابیوں کے شکار کا سیزن شروع ہوگیا ہے۔ چترال میں شکاریوں نے دریائے چترال کے کنارے مرغابیوں کے شکار کے لیے تالاب تیار کرنے اور نئے تالاب بنانے کا کام شروع کردیا ہے۔
چیف کنزرویٹر ڈاکٹر محسن فاروق کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق 31 دسمبر 2026 تک صرف جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو شکار کی اجازت ہوگی۔ سالانہ سمال گیم شوٹنگ لائسنس کی فیس 5 ہزار روپے جبکہ مرغابی کے شکار کی خصوصی فیس 100 روپے فی دن فی گن مقرر کی گئی ہے۔ ایک شکاری ایک دن میں ایک گن سے زیادہ سے زیادہ پانچ پرندے شکار کرسکتا ہے۔
طلوع آفتاب سے پہلے اور غروب آفتاب کے بعد شکار، الیکٹرانک آلات اور کال برڈز کے استعمال پر پابندی ہے۔ صوبے کے 53 مخصوص آبی علاقوں، ڈیموں، جھیلوں اور دریاؤں میں بھی شکار مکمل طور پر ممنوع ہے۔
دریں اثنا، چترال کے غیر شکاری شہریوں نے دریائے چترال کے کنارے مرغابیوں کے تالاب بنانے پر مکمل پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پانی کو روکنے کے لیے ریت اور مٹی سے بھری سیمنٹ کی بوریاں استعمال کی جاتی ہیں۔ اس سے پانی کا بہاؤ متاثر ہوسکتا ہے، دریائی ملبہ جمع ہوسکتا ہے اور گرمیوں میں دریا کی سطح بلند ہونے کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس عمل کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اور قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے۔
لیکن اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ آخر مرغابیوں کے شکار کا سیزن ہونا ہی کیوں ضروری ہے؟
لوگ ایسے مشغلے کا انتخاب کیوں کریں جس میں خوبصورت پرندوں کو مارنا شامل ہو؟ یہ پرندے ماحول کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتے بلکہ قدرت کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔ ہم مسلمان یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ رب العالمین، یعنی تمام جہانوں کا پروردگار ہے، اور ہم ایسے نبی ﷺ کے پیروکار ہیں جنہیں رحمت للعالمین کہا گیا ہے؟
ہم ان بے زبان مخلوقات پر رحم کیوں نہیں کرسکتے جو ہم سے کچھ نہیں مانگتیں، سوائے اس کے کہ انہیں زندہ رہنے اور اپنی فطری زندگی گزارنے کا حق دیا جائے؟
اور جب ہم اللہ کی مخلوق پر رحم نہیں کرتے تو پھر اللہ کی رحمت کی امید کیسے کرسکتے ہیں؟ آج جب دنیا علم، سائنس، جدید ٹیکنالوجی اور مضبوط دلیل و منطق کے دور میں داخل ہوچکی ہے، تو صرف شکار کے شوق اور مارنے کی خواہش کو پورا کرنے کے لیے ایسی قدیم روایات کو جاری رکھنے کی کیا ضرورت ہے؟
شاید اب وقت آگیا ہے کہ ہم جنگلی حیات کے بارے میں اپنی سوچ بدلیں۔ معاملہ صرف قوانین اور شکار کے لائسنس کا نہیں، بلکہ انسانیت، ایمان اور رحم و شفقت کا بھی ہے۔
.. CN رپورٹ، 24 ستمبر 2026ء