سیاست بمقابلہ گورننس: پاکستان کو اصل میں کس چیز کی ضرورت ہے؟
English
عام طور پر یہی کہا جاتا ہے کہ جمہوریت حکومت کی بہترین شکل ہے۔ لیکن پاکستان کی سیاسی تاریخ ایک بالکل مختلف کہانی بیان کرتی ہے، جو بدعنوانی، نااہلی اور عدم استحکام سے بھری پڑی ہے۔ ہمارے منتخب حکمران ہمیشہ اپنی اقتدار کی کرسی بچانے اور اپنے حامیوں کو نوازنے میں اتنے مصروف رہے کہ گڈ گورننس (بہترین طرزِ حکمرانی) کے اصولوں کو مکمل طور پر پسِ پشت ڈال دیا گیا۔
بدقسمتی سے، ملک میں فوجی مداخلت کی ایک بڑی وجہ خود جمہوری سیاست دانوں کے کرتوت رہے ہیں۔ ایک سیاسی جماعت نے ہمیشہ دوسری کو گرانے کے لیے فوج کو دعوت دی اور مارشل لا کا استقبال کیا۔ لیکن فوجی حکمران بھی کوئی بہتری نہ لا سکے، کیونکہ انہوں نے اپنے اقتدار کو جائز ثابت کرنے کے لیے انہی سیاست دانوں سے سمجھوتے کیے۔ اس پورے کھیل میں بیوروکریسی نے بھی پسِ پردہ رہ کر اپنا مفاد پورا کیا۔ یوں جمہوریت اور فوجی ادوار، دونوں میں ہی گورننس کا جنازہ نکل گیا۔
اب اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے لیے روایتی سیاست ضروری ہے یا گڈ گورننس؟ کیونکہ ہمارے تجربے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں ایک ساتھ نہیں چل پا رہیں۔
دنیا میں اس کی دوسری مثالیں بھی موجود ہیں۔ سنگاپور کے رہنما لی کوان یو نے روایتی سیاست کو سائیڈ پر رکھا اور صرف قابلیت، میرٹ اور بہترین گورننس پر توجہ دی۔ انہوں نے سنگاپور کو ایک معمولی جزیرے سے دنیا کی عظیم معاشی طاقت بنا دیا۔ ہم کیوں ایک ایسے سیاسی نظام سے چپکے ہوئے ہیں جو ہر محاذ پر ناکام ہو چکا ہے؟ سیاسی نظام انسانوں کے بنائے ہوئے ہیں، کوئی آسمانی صحیفے نہیں ہیں۔
پاکستان کو اس وقت ایک سادہ، ہلکے پھلکے اور تیز ترین انتظامی نظام کی ضرورت ہے جو مکمل طور پر میرٹ پر مبنی ہو۔ اگر ہم انسانوں کی بدعنوانی کو ختم کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) اور آٹومیشن کا استعمال کریں تو نظام شفاف ہو سکتا ہے۔ اگر روایتی سیاست عوام کو سہولت دینے میں مسلسل ناکام ہو رہی ہے، تو پھر ایک جدید اور میرٹ پر مبنی نظامِ حکومت کو اپنانا ہی ہمارا واحد حل ہے۔