تعلیم یافتہ تو ہیں، مگر زندگی گزارنے کے ہنر سے محروم!
English
پاکستان کے تعلیمی نصاب میں ایسی تبدیلیوں کی ضرورت ہے جو بچوں میں اچھے اخلاق پیدا کریں، انہیں صحت مند زندگی گزارنا سکھائیں اور روزمرہ زندگی کے عملی مسائل سے نمٹنے کے قابل بنائیں۔
تعلیم کا مقصد صرف امتحان پاس کرنا اور ڈگریاں حاصل کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ اس کا اصل مقصد نوجوانوں کو ذمہ دار شہری، ہمدرد انسان اور ایسے سمجھ دار بالغ افراد بنانا ہونا چاہیے جو روزمرہ زندگی کے مسائل کا بہتر طریقے سے سامنا کر سکیں۔
بدقسمتی سے، ہمارے تعلیمی نظام میں کتابوں، امتحانات اور رٹے بازی پر ضرورت سے زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ طلبہ برسوں ریاضی، الجبرا، سائنسی نظریات، تاریخ اور مذہبی اسباق پڑھتے ہیں، لیکن ان میں سے بہت سے طالب علم اسکول سے نکلنے کے بعد بھی زندگی کی بنیادی ضرورتوں اور عملی معاملات سے ناواقف ہوتے ہیں۔
ہمارے تعلیمی نصاب میں کردار سازی، اخلاقی تعلیم اور زندگی گزارنے کے عملی ہنر کو زیادہ اہمیت دینی چاہیے۔
طلبہ کو سچ بولنے، وقت کی پابندی، نظم و ضبط، دوسروں کا احترام، برداشت، صفائی، ذمہ داری اور سرکاری و عوامی املاک کی حفاظت کرنا سکھایا جائے۔ انہیں یہ سمجھایا جائے کہ کامیابی صرف اچھی ڈگری یا دولت حاصل کرنے کا نام نہیں، بلکہ اصل کامیابی دیانت داری، اچھے اخلاق اور دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے میں بھی ہے۔
صحت کی بنیادی تعلیم بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ بچوں کو متوازن غذا، چینی، نمک اور غیر صحت بخش چکنائی کے زیادہ استعمال کے نقصانات، ورزش، ذاتی صفائی اور مناسب نیند کی اہمیت بتائی جائے۔ اس طرح وہ بچپن ہی سے صحت مند عادات اپنا سکتے ہیں۔
ہر طالب علم کو ابتدائی طبی امداد بھی سکھائی جانی چاہیے، تاکہ وہ کسی حادثے یا ہنگامی صورت حال میں فوری طور پر مناسب مدد کر سکے، دوسروں کو مدد کے لیے بلا سکے اور خطرناک حالات کو پہچان سکے۔ یہ ایسے عملی ہنر ہیں جو کسی کی جان بچا سکتے ہیں۔
ایک اور اہم پہلو جانداروں کے ساتھ ہمدردی ہے۔ اسکولوں میں بچوں کو پرندوں، جانوروں اور دیگر بے زبان مخلوقات کے ساتھ رحم دلی کا سلوک کرنا سکھایا جائے۔ انہیں فطرت کی حفاظت اور ماحول کا احترام کرنے کی تربیت بھی دی جائے۔
دینی تعلیم بھی ان مقاصد کے حصول میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، بشرطیکہ اس میں بیان کیے گئے اخلاقی اصولوں کو عملی زندگی سے جوڑا جائے۔ بچوں کو سچائی، ہمدردی، انصاف اور دوسروں کے حقوق کی ادائیگی کی اہمیت سمجھائی جائے۔
اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ریاضی، سائنس، تاریخ یا دیگر تعلیمی مضامین کو ختم کر دیا جائے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تعلیم کا دائرہ رٹے بازی اور امتحانات سے آگے بڑھایا جائے۔ کتابی علم اور عملی سمجھ بوجھ ایک دوسرے کے ساتھ چلنے چاہییں۔
اگر کوئی طالب علم ریاضی کا مشکل سوال تو حل کر سکتا ہو، لیکن کسی طبی ہنگامی صورت حال میں مناسب قدم نہ اٹھا سکے، اپنی صحت کا خیال نہ رکھ سکے یا دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک نہ کرے، تو اس کی تعلیم نامکمل ہے۔
پاکستان کو ایسے تعلیمی نظام کی ضرورت ہے جو بچوں کو صرف روزگار کمانے کے قابل نہ بنائے، بلکہ انہیں ذمہ داری سے زندگی گزارنے، آزادانہ سوچنے اور معاشرے کے لیے مفید کردار ادا کرنے کی صلاحیت بھی دے۔
تعلیم کی اصل کامیابی صرف اس بات سے نہیں ناپنی چاہیے کہ ایک طالب علم نے کتنا علم حاصل کیا ہے، بلکہ اس بات سے بھی کہ وہ بڑا ہو کر کیسا انسان بنتا ہے۔
AI is going to take away everything from our paper tigers. Only skilled hard working tigers will survive what we are seeing on our nearby horizon.
AI is a big challenge but we need to emphasise on real and not artificial education. The author has comprehensively covered all essential ingredients of a sound education. AI is a derivative not the foundation.