جاپان میں سائبر ایمرجنسی نافذ
English
جاپان نے 20 سے زائد بڑی کمپنیوں پر سائبر حملوں کے بعد ملک میں ’’سائبر اسپیس میں ہنگامی حالت‘‘ کا اعلان کر دیا ہے۔ ان حملوں نے مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال سے سائبر جرائم میں اضافے کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
فنانشل ٹائمز کے حوالے سے شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق، حملوں سے متاثر ہونے والی کمپنیوں میں کار کرائے پر دینے والی کمپنی ٹائمز کار اور معروف سہولت اسٹور چین لاسن بھی شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، اسپتالوں اور سرکاری اداروں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں لاکھوں ذاتی اور خفیہ معلومات افشا ہونے کا خدشہ ہے۔
اس واقعے کا ایک تشویش ناک پہلو ٹائمز کار کے ڈیٹا میں نقب لگنے کے بعد ڈرائیونگ لائسنسوں کی تصاویر کا چوری ہونا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، یہ دستاویزات ڈارک ویب کی غیر قانونی منڈیوں میں فروخت کے لیے پیش کی گئی ہیں، جہاں مجرم چوری شدہ ذاتی معلومات خریدتے اور فروخت کرتے ہیں۔
جاپانی حکام نے صورت حال کو انتہائی سنگین قرار دیا ہے۔ قومی سائبر سکیورٹی حکمتِ عملی کے ادارے کے سربراہ ماساکی تائرا نے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے، جبکہ سائبر سکیورٹی کے وزیر توشی ہارو فروکاوا نے بھی شدید تشویش ظاہر کی ہے۔
حکومت نے بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کو ہدایت دی ہے کہ نئے بینک اکاؤنٹ کھولنے کے لیے صرف ڈرائیونگ لائسنس کو شناخت کا واحد ثبوت قبول نہ کریں۔ صارفین کو اب پاسپورٹ یا جاپان کے مائی نمبر شناختی کارڈ جیسے زیادہ محفوظ دستاویزات فراہم کرنا ہوں گے، جن میں الیکٹرانک چِپ موجود ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق، جاپان کے سائبر سکیورٹی نظام میں کمزوریاں حساس معلومات کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔ مصنوعی ذہانت سائبر حملوں کو زیادہ تیز، کم خرچ اور پیچیدہ بنا سکتی ہے، تاہم ان مخصوص حملوں میں AI کے کردار کی مکمل تفصیلات واضح نہیں ہیں۔
یہ بحران واضح کرتا ہے کہ ڈیجیٹل نظاموں کو محفوظ بنانے کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں۔ اگر حکومتیں اور کاروباری ادارے اپنے حفاظتی نظام مضبوط نہ کریں تو دنیا بھر میں ایسے حملوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔