AI کے ذریعے انصاف : تیز اور شفاف
Englishانصاف صرف صحیح فیصلہ دینے کا نام نہیں۔ یہ بھی ضروری ہے کہ دونوں فریقوں کو یقین ہو کہ فیصلہ منصفانہ طریقے سے کیا گیا ہے۔
مصنوعی ذہانت (اے آئی) عدالتوں کو اس مقصد کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
تصور کریں کہ ایک عدالت میں مدعی اور مدعا علیہ، اپنے وکلا کے ذریعے، اپنے دعوے، دلائل، ثبوت اور تمام متعلقہ دستاویزات ایک اے آئی نظام میں داخل کریں۔ نظام میں داخل کی جانے والی ہر چیز عدالت میں لگی ایک بڑی اسکرین پر سب کے سامنے دکھائی دے۔ کسی فریق سے کچھ بھی پوشیدہ نہ ہو۔
اگر کوئی وکیل اعتراض کرے، نیا ثبوت پیش کرے یا کوئی اضافی دلیل دے تو وہ بھی دونوں فریقوں اور جج کی موجودگی میں اے آئی نظام میں شامل کی جائے۔ نظام پورے ریکارڈ کا جائزہ لے اور متعلقہ حقائق، قوانین، سابقہ عدالتی فیصلوں اور تضادات کی نشاندہی کرے۔
اس کے بعد اے آئی ایک مکمل تجزیہ اور ممکنہ فیصلے کی بنیاد پیش کرے اور واضح کرے کہ وہ کس نتیجے تک کیسے پہنچا۔ دونوں فریق اس تجزیے کو دیکھ سکیں اور اس میں موجود کسی بھی بات پر اعتراض کر سکیں۔
جج کے سوالات بھی اے آئی کے ذریعے ریکارڈ کیے جائیں تاکہ عدالتی کارروائی کا مکمل اور شفاف ریکارڈ موجود ہو۔ اگر جج اے آئی کے تجزیے سے اختلاف کرے اور اپنے صوابدیدی اختیار کو استعمال کرے تو اس کی وجوہات بھی ریکارڈ کا حصہ بنائی جائیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ اے آئی جج بن جائے۔ آخری فیصلہ جج ہی کرے گا۔ اے آئی صرف ایک شفاف عدالتی معاون ہوگا، جو ہر دستاویز اور دلیل کو سامنے رکھے گا اور قانون کے یکساں اطلاق میں مدد دے گا۔
ایسا نظام پوشیدہ اثر و رسوخ، انسانی غلطیوں، غیر ضروری تاخیر اور جانبداری کے الزامات کو کم کر سکتا ہے۔
عدالتیں طویل عرصے سے شہریوں سے ایسے نظام پر اعتماد کرنے کو کہتی رہی ہیں جس کا پورا عمل وہ دیکھ نہیں سکتے۔ شاید اب وقت آگیا ہے کہ انہیں یہ عمل اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتا ہوا دیکھنے کا موقع دیا جائے۔
۔۔۔ سی این رپورٹ، 18 ستمبر 2026
What a suggestion!, but it is too early for a country like Pakistan to understand it.
This would be a revolutionary reform and will have to be employed one day or the other – the sooner the better. Proceedings of a case through the AI system, vis a vis it’s knowledge and logic, would discourage filing of false/erratic cases arising out of various human frailities and other misconstrued factors, thus sparing the judiciary from avoidable load and work pressure.