پاکستان اس دلدل سے کیسے نکلے گا ؟

English

چترال: پاکستان میں چترال سے کراچی تک ملک گیر احتجاج کی تیاریاں نظر آ رہی ہیں۔ احتجاج کرنے والے پٹرولیم لیوی ختم کرنے اور زیرِ حراست سیاسی رہنما عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ دارالحکومت اسلام آباد پہلے ہی ’کنٹینرائز‘ ہونا شروع ہو گیا ہے۔ سڑکوں کے کنارے بڑی تعداد میں بھاری کنٹینر کھڑے کر دیے گئے ہیں، جنہیں کسی بھی وقت سڑکیں بند کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس سے شہریوں کی مشکلات مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

ملک کی معیشت پہلے ہی شدید کساد بازاری کا شکار ہے۔ عوام کی قوتِ خرید تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ اگر سڑکیں بند کی جاتی ہیں تو متاثرہ علاقوں کے لوگوں کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دوسری طرف حکومت کو کنٹینروں کے کرائے اور دوسرے شہروں سے بلائی جانے والی پولیس فورسز کو اضافی ٹی اے/ڈی اے کی مد میں بھی بھاری رقم خرچ کرنا پڑے گی۔

متوقع احتجاج کرنے والی جماعت، جماعت اسلامی، کا مطالبہ ہے کہ بھاری پٹرولیم لیوی، جسے وہ ناجائز قرار دیتی ہے، ختم کی جائے اور حکومت کے غیر ضروری اور شاہانہ اخراجات کم کیے جائیں۔ جبکہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت پی ٹی آئی کا مطالبہ ہے کہ ان کے رہنما عمران خان کو رہا کیا جائے، جو ان کے کارکنوں اور حامیوں کے مطابق گزشتہ تین سال سے ناجائز طور پر جیل میں ہیں۔

یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ پہلے ہی مشکلات کا شکار ملکی معیشت کو ان احتجاجی مظاہروں سے مزید کتنا نقصان پہنچے گا۔ احتجاج کرنے والے ان مظاہروں کے انعقاد پر اربوں روپے خرچ کریں گے، جبکہ حکومت انہیں روکنے کے لیے اس سے بھی زیادہ رقم خرچ کرے گی۔

کیا پاکستان میں معاملات پرامن طریقے سے حل نہیں ہو سکتے؟ کیا حکومت عوام کے جائز مطالبات کو بار بار محاذ آرائی کے بجائے بات چیت کے ذریعے قبول نہیں کر سکتی؟ پاکستان اس دلدل سے کیسے نکلے گا، یہی اس وقت اربوں ڈالر کا سوال ہے۔

Share:

Leave a Comment