ابراہیم ٹراورے: قومی وقار، خود انحصاری اور قیادت کا ایک سبق

English

کچھ حکمران اپنا زیادہ تر وقت بیرونی امداد حاصل کرنے میں گزارتے ہیں، جبکہ کچھ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کئی دہائیوں تک غیر ملکی امداد ملنے کے باوجود ان کے ممالک ترقی کیوں نہیں کر سکے۔ برکینا فاسو کے رہنما کیپٹن ابراہیم ٹراورے نے بھی یہی سوال اٹھایا ہے۔

6 اگست 2023 کو فرانس نے برکینا فاسو کے لیے ترقیاتی اور بجٹ کی امداد معطل کرنے کا اعلان کیا۔ اس کی وجہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی تھی، خصوصاً اس وقت جب برکینا فاسو نے پڑوسی ملک نائجر میں فوجی حکومت کی حمایت کی۔

فرانس کی جانب سے امداد بند کرنے کے فیصلے پر ٹراورے کا ردعمل قابلِ غور تھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ فرانس سے کئی دہائیوں تک مالی امداد ملنے کے باوجود ان کا ملک ترقی کیوں نہ کر سکا؟

ان کا پیغام سادہ تھا: اگر 63 سال کی غیر ملکی امداد کسی ملک کو خوشحال نہیں بنا سکی تو اس امداد کا بند ہونا ہمیں مزید محنت کرنے اور دوسروں پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے وسائل پر بھروسہ کرنا سکھائے گا۔

اس سے پہلے مارچ 2023 میں ان کی حکومت نے فرانس کے ساتھ 1961 میں ہونے والا فوجی معاونت کا معاہدہ بھی ختم کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں فرانسیسی فوجیوں کو ملک چھوڑنا پڑا۔

ٹراورے کے اس مؤقف کی اہمیت صرف یہ نہیں کہ انہوں نے سابق نوآبادیاتی طاقت کے سامنے جھکنے سے انکار کیا۔ اصل اہمیت قومی وقار، اپنے وسائل پر اختیار اور اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کے عزم میں ہے۔

ان کی بات پاکستان جیسے ممالک کے لیے بھی غور و فکر کا موقع فراہم کرتی ہے۔ ہم کئی دہائیوں سے غیر ملکی قرضے، امداد اور گرانٹس حاصل کرتے آ رہے ہیں، لیکن ہمارے معاشی مسائل، بیرونی قرض دینے والوں پر انحصار اور حکمرانی کی کمزوریاں آج بھی برقرار ہیں۔

ہمارے حکمرانوں کو سرکاری عہدوں کو ذاتی دولت بنانے کا ذریعہ سمجھنے کے بجائے انہیں قوم کی خدمت کی ذمہ داری سمجھنا چاہیے۔ پچھلے قرضے کی ناکامی چھپانے کے لیے نیا قرض لینے کے بجائے ایک مضبوط معیشت کی تعمیر، بدعنوانی پر قابو پانے، انسانی وسائل کی ترقی اور قومی دولت کے بہتر استعمال پر توجہ دینی چاہیے۔

ٹراورے کا پیغام قومی خود انحصاری اور خودمختاری کے تصور پر مبنی ہے۔ تاہم، یہ ایک الگ سوال ہے کہ آیا ان کی حکومت ان نعروں کو مستقل معاشی ترقی میں تبدیل کر سکے گی یا نہیں۔ برکینا فاسو کو اب بھی سلامتی اور ترقی کے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ صرف بلند بانگ دعوے ان مسائل کو حل نہیں کر سکتے۔

اس کے باوجود ٹراورے کا اٹھایا ہوا سوال انتہائی اہم ہے:

اگر غیر ملکی امداد کسی قوم کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا نہیں سکھا سکتی تو پھر اس امداد کا مقصد کیا ہے؟

کسی ملک کی اصل طاقت غیر ملکی امداد دینے والوں کی سخاوت میں نہیں بلکہ اس کی قیادت کی دیانت داری، عوام کی محنت اور قومی وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال میں ہوتی ہے۔

"وطن یا موت، ہم کامیاب ہو کر رہیں گے۔"

— برکینا فاسو کا قومی نعرہ، جو ابراہیم ٹراورے کے پیغامِ خودمختاری سے بھی ہم آہنگ ہے۔

Share:

Leave a Comment