ریاست کی موت، مافیا کی فتح

English

پاکستان کا المیہ صرف یہ نہیں کہ اس کا خزانہ مالی دباؤ کا شکار ہے، بلکہ اصل مسئلہ یہ بھی ہے کہ عوامی دولت، احتساب اور دیانت دار سرکاری اہلکاروں کے تحفظ سے متعلق سوالات مسلسل جواب طلب ہیں۔

برطانوی راج سے ورثے میں ملنے والے سول سروس نظام کے 1,750 افسران پر اٹھنے والے اخراجات کو دیکھیے۔ اس حوالے سے گردش کرنے والے اعداد و شمار کے مطابق، ایک افسر کے پورے کیریئر پر 82 کروڑ 20 لاکھ روپے تک خرچ ہو سکتے ہیں، جن میں تنخواہ کے علاوہ مراعات بھی شامل ہیں۔ ان تمام افسران پر مجموعی اخراجات کھربوں روپے تک پہنچنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان مالی مشکلات سے نکلنے کے لیے بار بار آئی ایم ایف سے رجوع کرتا ہے، یہ اعداد و شمار سرکاری اخراجات اور بااثر طبقوں کو حاصل مراعات کے بارے میں سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔

ایک اور افسوس ناک داستان کسٹمز انسپکٹر اعجاز چوہدری کی ہے، جن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے اسلام آباد کے پرانے ہوائی اڈے پر ماڈل ایان علی کے سامان میں پانچ لاکھ امریکی ڈالر دیکھ کر خاموش رہنے کے بجائے اس معاملے کی رپورٹ کی۔ بیان کردہ واقعے کے مطابق، انہوں نے مبینہ دباؤ کے باوجود پیچھے ہٹنے سے انکار کیا۔ ان کی ترقی روک دی گئی اور بعد ازاں عدالت میں گواہی دینے سے پہلے ہی انہیں ان کے گھر کے باہر قتل کر دیا گیا۔

اس واقعے کے بیان میں ان کی بیوہ اور بیٹے کی مشکلات کا بھی ذکر ہے، جنہیں انصاف کے حصول کے لیے جدوجہد کرنا پڑی، جبکہ وقت گزرنے کے ساتھ یہ معاملہ عوامی توجہ سے اوجھل ہوتا گیا۔ یہ داستان ایک بنیادی سوال اٹھاتی ہے: اگر کوئی دیانت دار سرکاری اہلکار بااثر لوگوں کے خلاف قانون پر عمل کرے تو ریاست اسے کیا تحفظ فراہم کرتی ہے؟

تیسرا معاملہ پاکستان کے معدنی وسائل سے متعلق ہے۔ گردش کرنے والے ایک دعوے کے مطابق، فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (FWO) کی ایک ذیلی کمپنی نے 2016 سے 2026 کے دوران خیبر پختونخوا سے 9 لاکھ 87 ہزار ٹن تانبا نکالا۔ اگر فی ٹن قیمت 11,500 ڈالر فرض کی جائے تو اس کی مجموعی مالیت تقریباً 11.35 ارب ڈالر، یعنی 4.05 کھرب روپے بنتی ہے۔ تاہم، نکالے گئے تانبے کی مقدار، قیمت اور اصل آمدنی کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔ معدنیات کی مجموعی مالیت اور حکومت کو حاصل ہونے والی آمدنی ایک ہی چیز نہیں ہیں۔

یہ تینوں معاملات ایک بڑا سوال اٹھاتے ہیں: آخر ملک کے وسائل، عوامی اخراجات اور قومی اداروں سے فائدہ کون اٹھاتا ہے؟

ایک ریاست قرض لے کر تو زندہ رہ سکتی ہے، لیکن احتساب کو نظرانداز کرکے نہیں۔ اسی طرح، اگر دیانت دار اہلکار خود کو بے یار و مددگار سمجھیں اور قومی دولت مؤثر نگرانی سے باہر رہے تو قانون کی حکمرانی بھی قائم نہیں رہ سکتی۔

جب احتساب صرف کمزوروں کے لیے رہ جائے تو عوام کا اعتماد دم توڑ دیتا ہے۔ اور جب ریاست دیانت داری کا تحفظ کرنے میں ناکام ہو جائے تو طاقتور یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ قانون ان کے لیے نہیں ہے۔

مکمل تفصیلات اور متعلقہ تحریریں یہاں پڑھیں: [Source]

Share:

Leave a Comment