چترال کی سڑکیں: بورڈ پر سیاست دانوں نہیں، ٹھیکیداروں کے نام لکھیں
English
چترال کی سڑکوں کی خراب حالت ایک پرانا مسئلہ ہے۔ بہت سی سڑکیں تعمیر ہونے کے کچھ ہی عرصے بعد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہیں۔ عوام کو گردوغبار، گڑھوں، گاڑیوں کی خرابی اور سفر کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اکثر یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ سڑکوں کی تعمیر پر خرچ ہونے والی سرکاری رقم کہاں جاتی ہے اور تعمیراتی کام کا معیار اتنا خراب کیوں ہوتا ہے۔
جب کسی سڑک کا افتتاح ہوتا ہے تو عموماً وہاں بڑے بڑے بورڈ لگائے جاتے ہیں جن پر افتتاح کرنے والے سیاست دانوں یا دیگر اہم شخصیات کے نام اور تصاویر درج ہوتی ہیں۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ سڑک تعمیر کرنے والا ٹھیکیدار کون ہے؟ اور اس منصوبے پر کتنی رقم خرچ ہوئی؟
کچھ عرصہ پہلے ایک اچھی تجویز سامنے آئی تھی کہ سڑکوں کے افتتاح کرنے والوں کے ناموں کی تشہیر کے بجائے ہر سڑک کے آغاز پر ایک مستقل بورڈ لگایا جائے، جس پر ٹھیکیدار کا نام، تعمیر پر آنے والی کل لاگت اور کام مکمل ہونے کی تاریخ درج ہو۔
اس سادہ سے اقدام کے کئی فائدے ہو سکتے ہیں۔ لوگوں کو معلوم ہوگا کہ سڑک کس ٹھیکیدار نے بنائی اور اس پر کتنی سرکاری رقم خرچ ہوئی۔ اگر سڑک کئی سال تک اچھی حالت میں رہے تو ٹھیکیدار تعریف کا مستحق ہوگا۔ لیکن اگر تعمیر کے چند ماہ بعد ہی اس میں گڑھے پڑ جائیں اور وہ ٹوٹنے لگے تو عوام متعلقہ ٹھیکیدار سے جواب طلب کر سکیں گے۔
اس طریقے سے ٹھیکیداروں کے درمیان معیاری کام کرنے کا مقابلہ بھی پیدا ہوگا۔ اچھا کام کرنے والوں کو عزت ملے گی، جبکہ ناقص کام کرنے والوں کے لیے اپنی کوتاہی چھپانا مشکل ہو جائے گا۔
تاہم صرف ناموں کے بورڈ لگانا کافی نہیں۔ حکومت کو تعمیراتی کام کے معیار کی آزادانہ جانچ بھی کرانی چاہیے اور ناقص مواد استعمال کرنے یا سرکاری رقم میں بدعنوانی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔
عوام کا پیسہ عوام کے سامنے جواب دہی کا تقاضا کرتا ہے۔ سڑکیں عوام کے ٹیکسوں سے بنتی ہیں، نہ کہ سیاست دانوں یا ٹھیکیداروں کی ذاتی رقم سے۔ عوام کو یہ جاننے کا پورا حق ہے کہ ٹھیکہ کس کو ملا، کتنی رقم خرچ ہوئی اور کیا اس رقم کے مطابق معیاری کام ہوا؟
اب وقت آگیا ہے کہ تشہیری بورڈوں کی جگہ جواب دہی کے بورڈ لگائے جائیں۔ چترال کو ایسی سڑکوں کی ضرورت ہے جو برسوں قائم رہیں، نہ کہ ایسے بورڈوں کی جو لوگوں کی تعریف کریں جبکہ ان کے نیچے سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوں۔ .. CN report, 23 Oct 2026