چین نے تین سال میں امریکہ کی ایک صدی سے زیادہ سیمنٹ استعمال کی
English
چین نے 2011 سے 2013 کے درمیان تقریباً 6.4 ارب میٹرک ٹن سیمنٹ استعمال کی۔ یہ مقدار اس سیمنٹ سے بھی زیادہ تھی جو امریکہ نے پوری بیسویں صدی، یعنی 100 سال کے دوران استعمال کی۔ امریکہ میں اس عرصے کے دوران تقریباً 4.4 ارب میٹرک ٹن سیمنٹ استعمال ہوئی تھی۔ دوسرے الفاظ میں، چین نے صرف تین سال میں امریکہ کی ایک پوری صدی سے زیادہ سیمنٹ استعمال کر لی۔
یہ اعداد و شمار حیران کن ہیں اور چین میں ہونے والی غیر معمولی تعمیراتی ترقی کی ایک جھلک پیش کرتے ہیں۔ گزشتہ چند دہائیوں میں چین نے لاکھوں اپارٹمنٹس، جدید شاہراہیں، پل، بلند و بالا عمارتیں اور بڑے بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبے تعمیر کیے ہیں۔ کئی ایسے علاقے جہاں پہلے کھلی زمین تھی، جدید شہری مراکز میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ اس تیز رفتار تعمیر نے چین کے نقشے اور طرزِ زندگی کو بڑی حد تک بدل دیا ہے۔
تاہم، اس تیز رفتار ترقی کے کچھ منفی نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔ چین کے بعض علاقوں میں رہائشی عمارتیں اس رفتار سے تعمیر کی گئیں کہ لوگوں کی طلب ان کے برابر نہ پہنچ سکی۔ کئی عمارتیں خالی رہ گئیں، بعض رہائشی علاقے پوری طرح آباد نہ ہو سکے، جبکہ نامکمل اپارٹمنٹ ٹاورز چین میں جائیداد کے کاروبار کے بحران کی علامت بن گئے۔
اس صورت حال سے ایک اہم سبق ملتا ہے کہ عمارتیں تعمیر کرنا اور ایک کامیاب معاشرہ آباد کرنا دو مختلف باتیں ہیں۔ ایک اچھے شہر کے لیے صرف سیمنٹ اور سریا کافی نہیں۔ وہاں لوگوں کے لیے روزگار، اسکول، اسپتال، آمدورفت اور دوسری بنیادی سہولتیں بھی ضروری ہیں۔
اتنی بڑی تعمیرات کے ماحولیاتی اثرات بھی ہیں۔ سیمنٹ بنانے کے لیے بہت زیادہ توانائی درکار ہوتی ہے اور اس عمل سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑی مقدار خارج ہوتی ہے، جو موسمیاتی تبدیلی میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔ تعمیراتی سامان کی کان کنی اور نقل و حمل بھی قدرتی وسائل پر دباؤ ڈالتی ہے۔
چین کی تعمیراتی ترقی انسان کی اس غیر معمولی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے جس کے ذریعے وہ زمین کی شکل بدل سکتا ہے۔ لیکن یہ ایک اہم سوال بھی اٹھاتی ہے: کیا ترقی کو تعمیر ہونے والی عمارتوں کی تعداد سے ناپنا چاہیے یا اس بات سے کہ ان عمارتوں سے لوگوں کے معیارِ زندگی میں کتنا اضافہ ہوا؟
تیزی سے تعمیر کرنا انجینئرنگ کی صلاحیت کا ثبوت ہو سکتا ہے، لیکن دانش مندی کے ساتھ تعمیر کرنے کے لیے بہتر منصوبہ بندی، توازن اور لوگوں کی حقیقی ضروریات کو سمجھنا ضروری ہے۔ اصل کامیابی صرف زیادہ عمارتیں بنانے میں نہیں بلکہ بہتر اور پائیدار تعمیرات میں ہے۔