بل گیٹس سورج کو مدھم کرنا چاہتا ہے
English
ارب پتی کاروباری شخصیت بل گیٹس ایک ایسے سائنسی منصوبے کی مالی معاونت کر رہے ہیں جس کا مقصد زمین کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت یعنی عالمی حدت (گلوبل وارمنگ) کو کم کرنا ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی خیال یہ ہے کہ سورج کی کچھ روشنی کو زمین تک پہنچنے سے روکا جائے۔
اس طریقے کو سائنسی زبان میں سولر جیو انجینئرنگ (Solar Geoengineering) کہا جاتا ہے۔ اس کا آسان سا تصور یہ ہے کہ فضا کی بلندی پر انتہائی باریک ذرات چھوڑے جائیں جو سورج کی کچھ روشنی کو واپس خلا کی طرف منعکس کر دیں۔ اس طرح زمین کو ملنے والی حرارت کم ہو سکتی ہے۔
قدرت میں اس کی ایک مثال آتش فشاں پہاڑوں کے پھٹنے سے ملتی ہے۔ جب کوئی آتش فشاں پھٹتا ہے تو اس سے بڑی مقدار میں گردوغبار اور باریک ذرات فضا میں پھیل جاتے ہیں۔ یہ ذرات سورج کی کچھ روشنی کو روک دیتے ہیں اور زمین کا درجہ حرارت عارضی طور پر کم ہو سکتا ہے۔
امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی کے سائنس دان تحقیق کرنا چاہتے ہیں کہ کیا یہی عمل مصنوعی طریقے سے بھی ممکن ہے۔ ایک مجوزہ تجربے میں ایک غبارے کو تقریباً 20 کلومیٹر کی بلندی پر لے جا کر کیلشیم کاربونیٹ نامی معدنی مادے کی تھوڑی مقدار فضا میں چھوڑنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ اس کے بعد آلات کی مدد سے اس کے اثرات کا جائزہ لیا جانا تھا۔
اس تحقیق کے حامیوں کا خیال ہے کہ عالمی حدت ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے، اس لیے اس سے نمٹنے کے تمام ممکنہ طریقوں پر تحقیق ہونی چاہیے۔
تاہم اس طریقے میں خطرات بھی موجود ہیں۔ کسی کو یقین سے معلوم نہیں کہ اگر بڑی مقدار میں ایسے ذرات فضا میں چھوڑے جائیں تو اس کے کیا نتائج نکلیں گے۔ اس سے بارشوں کے نظام، موسم اور دنیا کے مختلف علاقوں کے ماحول پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ بل گیٹس اور ہارورڈ کے سائنس دان فی الحال صرف تحقیق کی حمایت کر رہے ہیں، نہ کہ فوری طور پر فضا میں مصنوعی گردوغبار پھیلانے کی تجویز دے رہے ہیں۔
یہ تحقیق ایک اہم سوال اٹھاتی ہے: اگر انسانی سرگرمیاں زمین کو گرم کر رہی ہیں تو کیا ہمیں فطرت میں مداخلت کرکے اسے دوبارہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے؟ اس کا جواب آنے والے برسوں میں ہونے والی سائنسی تحقیق سے ہی مل سکے گا۔