اگست دنیا کا گرم ترین مہینہ قرار

English

یورپی یونین کی کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس کے مطابق اگست دنیا بھر میں ریکارڈ کیا جانے والا اب تک کا گرم ترین مہینہ رہا۔ دنیا کا اوسط درجہ حرارت 16.96 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو جولائی 2023 کے سابقہ ریکارڈ سے معمولی زیادہ ہے۔

ماہرین کے مطابق عالمی درجہ حرارت میں اضافے کی بڑی وجہ انسانی سرگرمیاں، خاص طور پر کوئلہ، تیل اور گیس کا استعمال ہے۔ صنعتی دور سے اب تک زمین کا درجہ حرارت تقریباً 1.4 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے۔ 2025 میں گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج بھی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا۔

اگست میں سمندروں کا درجہ حرارت بھی ریکارڈ بلند رہا۔ گرین ہاؤس گیسوں سے پیدا ہونے والی اضافی حرارت کا 90 فیصد سے زیادہ حصہ سمندر جذب کرتے ہیں۔ اس سے سمندری حیات، مرجانی چٹانوں اور ساحلی علاقوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

ماہرین کے مطابق مضبوط ہوتا ہوا ایل نینو آنے والے مہینوں میں عالمی درجہ حرارت کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ 2026 یا 2027 دنیا کے گرم ترین سال ثابت ہو سکتے ہیں۔

مغربی یورپ نے بھی ریکارڈ گرم ترین موسم گرما گزارا۔ مسلسل گرمی کی لہروں سے جنگلات میں آگ لگی، دریاؤں میں پانی کم ہوا اور ہزاروں اضافی اموات ہوئیں۔ سائنس دانوں کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے بغیر ایسی شدید گرمی تقریباً ناممکن تھی۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر دنیا نے فوسل فیولز کا استعمال کم نہ کیا تو عالمی درجہ حرارت اور شدید موسمی واقعات میں مزید اضافہ ہوتا رہے گا۔
Share:

Leave a Comment