کیا جمہوریت واقعی حکمرانی کی بہترین شکل ہے؟ یا ہم نے محض اس لیے جمہوریت کو بہترین نظام تسلیم کر لیا ہے کہ دنیا میں طویل عرصے سے یہی تصور غالب رہا ہے؟
برسوں سے یہ خیال عام ہے کہ اگر اقتدار عوام کے ہاتھ میں ہو اور وہ اپنے حکمرانوں کا انتخاب خود کریں تو حکومت لازماً عوام کے مفاد میں کام کرے گی۔ نتیجتاً معاشرہ مستحکم، پُرامن اور خوشحال ہوگا۔ جمہوریت آزادی، احتساب اور قانون کی حکمرانی کی ضمانت سمجھی جاتی ہے، اسی لیے اسے ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی ایک ایسی منزل قرار دیا جاتا ہے جو انہیں امن، خوشحالی اور بہتر مستقبل تک لے جا سکتی ہے۔
لیکن آج دنیا کے حالات پر نظر ڈالیں تو یہ سادہ سا فارمولہ اتنا قابلِ اعتماد دکھائی نہیں دیتا۔
دنیا میں ایسی کئی جمہوریتیں موجود ہیں جن میں ہمارا ملک پاکستان بھی شامل ہے’ جہاں انتخابات باقاعدگی سے ہوتے ہیں، لیکن عوام پھر بھی بدعنوانی، سیاسی عدم استحکام، غربت اور ناقص سرکاری خدمات کا شکار ہیں۔ دوسری طرف کچھ ایسے ممالک بھی ہیں جو جمہوریت ہونے کا دعویٰ نہیں کرتے، مگر استحکام، معاشی ترقی، بنیادی سہولیات اور عوامی نظم و نسق کے حوالے سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
عرب شیخ ریاستیں اس کی ایک نمایاں مثال ہیں۔ انہوں نے اپنے قدرتی اور مالی وسائل کو استعمال کرتے ہوئے بلند معیارِ زندگی، جدید شہروں اور عالمی معیار کا انفراسٹرکچر قائم کیا ہے۔ اسی طرح آذربائیجان اور ازبکستان جیسے ممالک نے اپنے مختلف سیاسی نظاموں کے باوجود معاشی استحکام اور داخلی نظم و ضبط کے میدان میں قابلِ ذکر پیش رفت کی ہے۔
یہ صورتِ حال ہمیں ایک اہم فرق سمجھنے پر مجبور کرتی ہے: حکومت بنانے کا طریقہ اور اچھی حکمرانی ایک ہی چیز نہیں ہیں۔
ایک ملک میں انتخابات، سیاسی جماعتیں اور جمہوری ادارے موجود ہو سکتے ہیں، لیکن اگر حکمران نااہل، بدعنوان یا غیر شفاف ہوں تو جمہوریت کے باوجود حکمرانی ناقص رہ سکتی ہے۔ ایسا نظام سیاسی آزادی تو دے سکتا ہے، مگر عوام کو مؤثر حکومت فراہم کرنے میں ناکام ہو سکتا ہے۔
اس کے برعکس، کوئی غیر جمہوری حکومت سیاسی آزادیوں کو محدود کرتے ہوئے بھی استحکام، معاشی ترقی اور بنیادی سہولیات فراہم کر سکتی ہے۔ یقیناً اس کا مطلب یہ نہیں کہ آمرانہ نظام جمہوریت سے بہتر ہے۔ سیاسی آزادی، انسانی حقوق، اظہارِ رائے اور عوامی شرکت اپنی جگہ بنیادی انسانی اقدار ہیں۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جمہوریت اپنے آپ میں اچھی حکمرانی کی ضمانت نہیں۔
آخرکار کسی ملک کی کامیابی کا اصل پیمانہ شاید یہ نہیں کہ اس کے حکمران منتخب کیسے ہوتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ حکومت کیسے کرتے ہیں۔
کیا وہ باصلاحیت ہیں؟
کیا وہ دیانت دار اور جواب دہ ہیں؟
کیا فیصلے شفاف انداز میں کرتے ہیں؟
اور سب سے بڑھ کر، کیا ان کی ترجیح اقتدار کا تحفظ ہے یا عوام کی فلاح و بہبود؟
شاید ہمیں جمہوریت کو ایک مقصد کے بجائے ایک ذریعہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اصل مقصد تو اچھی حکمرانی، انصاف، انسانی وقار، امن، خوشحالی اور عوام کی بہتر زندگی ہے۔ اگر جمہوری نظام یہ مقاصد حاصل نہ کر سکے تو صرف انتخابات کا انعقاد اس کی کامیابی کا ثبوت نہیں بن سکتا۔
آخر میں سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ حکمران کیسے منتخب ہوتے ہیں؟ بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ منتخب یا غیر منتخب حکمران عوام کے لیے کیا کر رہے ہیں؟
سی این رپورٹ، 27 اگست 2026