پاکستان نے آئی پی پیز کو دفاعی بجٹ سے بھی زیادہ ادائیگیاں کیں

English
اسلام آباد: آزاد بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں (آئی پی پیز) کو رواں مالی سال کے پہلے 11 ماہ کے دوران 2.935 کھرب روپے یعنی تقریباً 12 ارب ڈالر ادا کیے گئے۔ یہ رقم پاکستان کے تقریباً 10 ارب ڈالر کے دفاعی بجٹ سے بھی زیادہ ہے۔ جون 2026 کی بجلی کی بلنگ ابھی مکمل نہیں ہوئی، اس لیے مجموعی رقم مزید بڑھ سکتی ہے۔ بجلی کے شعبے میں ہونے والی ان بھاری ادائیگیوں نے ایک بار پھر پاکستان کے مہنگے بجلی نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی رقم کو ڈیموں، انفراسٹرکچر اور بجلی کے سستے ذرائع پر بھی خرچ کیا جا سکتا تھا۔ وزارت توانائی کے مطابق آئی پی پیز کو ادائیگیاں نیپرا کی منظور شدہ قیمتوں اور حکومت کے ساتھ طے شدہ معاہدوں کے تحت کی گئیں۔ وزارت کا کہنا ہے کہ کسی بجلی گھر کو مقررہ حد سے زیادہ ادائیگی نہیں کی گئی۔ درآمدی کوئلے سے بجلی بنانے والے پلانٹس کو سب سے زیادہ 637.91 ارب روپے ادا کیے گئے۔ ان پلانٹس نے 12,048 گیگا واٹ گھنٹے بجلی پیدا کی۔ ایل این جی سے چلنے والے پلانٹس نے 16,097 گیگا واٹ گھنٹے بجلی پیدا کی اور انہیں 527.10 ارب روپے ادا کیے گئے۔ پن بجلی نے سب سے زیادہ 34,234 گیگا واٹ گھنٹے بجلی پیدا کی اور اس کے منصوبوں کو 375.04 ارب روپے ادا کیے گئے۔ جوہری بجلی گھروں نے 21,031 گیگا واٹ گھنٹے بجلی پیدا کی اور انہیں 469.44 ارب روپے ملے۔ مقامی گیس سے چلنے والے پلانٹس کو 200.84 ارب روپے، ہوا سے بجلی بنانے والے منصوبوں کو 144.43 ارب روپے، شمسی منصوبوں کو 36.51 ارب روپے اور بیگاس سے بجلی بنانے والے پلانٹس کو 14.82 ارب روپے ادا کیے گئے۔ ان اعداد و شمار نے ایک بار پھر آئی پی پیز اور پاکستان کے بجلی کے شعبے کو بحث کا مرکز بنا دیا ہے۔ روپے کی قدر میں کمی اور درآمدی ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے بھی بجلی کی پیداواری لاگت میں اضافہ کیا ہے
Share:

Leave a Comment