پاکستان نے چار سال میں غیر ملکی قرضوں پر 16 ارب ڈالر سود ادا کی

English

پاکستان نے گزشتہ چار سال کے دوران غیر ملکی قرضوں پر تقریباً 16 ارب ڈالر سود ادا کیا ہے، جو سالانہ اوسطاً تقریباً 4 ارب ڈالر بنتا ہے۔ یہ بات اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے بتائی۔

مانیٹری پالیسی کے اعلان کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ پاکستان کا مجموعی بیرونی قرضہ اس وقت تقریباً 107 ارب ڈالر ہے، جبکہ 2022 میں یہ 100 ارب ڈالر سے زیادہ تھا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ گزشتہ چار سال کے دوران پاکستان کے بیرونی قرضے میں صرف 5 سے 6 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا، جو سالانہ تقریباً ایک سے سوا ارب ڈالر بنتا ہے۔ اس کے برعکس، 2015 سے 2022 کے دوران بیرونی قرضوں میں سالانہ اوسطاً 6.5 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا تھا۔

گورنر کے مطابق، گزشتہ چار سال میں سود کی ادائیگی کے لیے تقریباً 10 سے 11 ارب ڈالر ایسے زرمبادلہ سے حاصل کیے گئے جو اسٹیٹ بینک نے مارکیٹ سے خریدا تھا، یعنی اس رقم کے لیے نئے قرضے نہیں لیے گئے۔ اس دوران اسٹیٹ بینک نے مارکیٹ سے 30 ارب ڈالر سے زیادہ خریدے۔

ان اقدامات کی مدد سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بھی بہتر ہوئے۔ 2023 کے آغاز میں یہ ذخائر تقریباً 3 ارب ڈالر تھے، جو بڑھ کر اب تقریباً 21.5 ارب ڈالر ہو گئے ہیں۔

گورنر نے بتایا کہ پاکستان کے بیرونی قرضوں کی نوعیت میں بھی بہتری آئی ہے۔ اب تقریباً 80 فیصد بیرونی قرضے عالمی اور دوطرفہ مالیاتی اداروں سے حاصل کیے گئے ہیں، جن میں عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک شامل ہیں۔ 2023 کے آغاز میں یہ تناسب تقریباً 55 فیصد تھا۔

انہوں نے توقع ظاہر کی کہ اگلے سال پاکستان کو غیر ملکی قرضوں پر سالانہ سود کی ادائیگی 3 ارب ڈالر سے کم ہو جائے گی۔

اسٹیٹ بینک نے دسمبر 2026 تک زرمبادلہ کے ذخائر 23 ارب ڈالر اور جون 2027 تک 25 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف بھی مقرر کیا ہے۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب اسٹیٹ بینک نے شرحِ سود میں 0.5 فیصد پوائنٹس کا اضافہ کرکے اسے 12 فیصد کر دیا۔

Share:

Leave a Comment