ترچ میر: ارکاری وادی کے راستے ایک تاریخی ٹریکنگ روٹ کی دوبارہ دریافت
English
ترچ میر ہندوکش کا سب سے بلند پہاڑ ہے، جس کی بلندی 7,708 میٹر ہے۔ یہ خیبر پختونخوا کے ضلع اپر چترال میں واقع ہے۔ اسے پہلی مرتبہ 1950 میں ناروے کی ایک کوہ پیمائی ٹیم نے سر کیا تھا۔ اس پہاڑی سلسلے میں 7,000 میٹر سے بلند چھ چوٹیاں ہیں جو دنیا بھر کے کوہ پیماؤں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔
اکتوبر 2026 میں پاکستانی ٹریکرز اور غیر ملکی شرکاء پر مشتمل ایک ٹیم نے ارکاری وادی کے راستے ترچ میر تک پہنچنے کے ایک کم معروف راستے کی کھوج کی۔ اس مہم کا مقصد اس قدیم راستے کو دوبارہ دریافت کرنا اور سیاحت کے لیے اس کی صلاحیت کا جائزہ لینا تھا۔
ٹیم دیر گول کے علاقے میں واقع چراگاہ موشھو گھاری پہنچی اور وہاں سے بیس کیمپ کی طرف روانہ ہوئی۔ چھ ارکان، جن میں مقامی گائیڈز اور دو خواتین ٹریکرز شامل تھیں، 4,288 میٹر کی بلندی پر واقع بیس کیمپ تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔
بیس کیمپ سے ترچ میر کی مرکزی چتوٹی، دیرگول زوم اور پہاڑ سے نیچے اترنے والے گلیشیئر کے دلکش مناظر دکھائی دیتے ہیں۔ مہم کی سب سے دلچسپ دریافت ایک پتھر پر کندہ تحریر تھی، جس کے مطابق جاپانی مہم جوؤں نے 10 جولائی 1971 کو ترچ میر سر کیا تھا۔
اس تحریر سے تصدیق ہوئی کہ جاپانی کوہ پیما ماضی میں دیر گول کی جانب سے بھی ترچ میر تک پہنچ چکے تھے۔ اس طرح حالیہ مہم نے ایک بالکل نیا راستہ بنانے کے بجائے ایک پرانے راستے کو دوبارہ دریافت کیا۔
اگرچہ کوہ پیمائی کے لحاظ سے یہ راستہ مشکل ہے، تاہم اس کا نسبتاً قابل رسائی بیس کیمپ اور شاندار قدرتی مناظر ٹریکنگ سیاحت کے لیے بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ مناسب منصوبہ بندی، مقامی گائیڈز اور حفاظتی انتظامات کے ذریعے ارکاری وادی کو ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کے لیے ایک اہم مہم جوئی کا مرکز بنایا جا سکتا ہے، جس سے مقامی آبادی کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔