جغور کے عمائدین کا ماحول کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ

English

.. سرور کمال

چترال کے گاؤں جغور کے عمائدین اور اہم شخصیات نے علاقے کے نازک ماحول کے تحفظ اور بار بار آنسرور کمالے والے سیلاب کے اثرات کم کرنے کے لیے صوبائی سطح پر فوری قانو سازی کا مطالبہ کیا ہے۔

ایک اجلاس میں شرکا نے خبردار کیا کہ جغور گول میں حد سے زیادہ چرائی، جنگلات کی کٹائی، انتظامی کمزوریاں اور عدالتی مقدمات میں تاخیر انسانی جانوں، املاک اور مقامی ماحول کے لیے خطرات بڑھا رہی ہے۔

شرکا نے مرحلہ وار آگاہی مہم شروع کرنے پر اتفاق کیا جس میں مقامی آبادی، اسکولوں، کالجوں اور جامعات کو شامل کیا جائے گا۔ غیر سرکاری تنظیموں، سرکاری اداروں، صحافیوں، سیاسی نمائندوں، سماجی کارکنوں اور سول سوسائٹی کو بھی اس مہم میں شامل کیا جائے گا۔

شرکا نے کہا کہ نقصان دہ سرگرمیوں کو روکنے اور مستقبل کی ماحولیاتی آفات سے نمٹنے کے لیے مضبوط قانون سازی ضروری ہے۔

اجلاس میں محکمہ جنگلی حیات کے نئے ٹرمز آف پوائنٹس (ToPs) طریقہ کار کا بھی خیرمقدم کیا گیا، جس کا مقصد مارخور ٹرافی ہنٹنگ فنڈ کے انتظام اور استعمال میں شفافیت بہتر بنانا ہے۔

شرکا نے چترال کے قدرتی ورثے کے تحفظ کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

Share:

Comments (2)

  • Sarwar Kamal September 19, 2026

    بقول وفاقی وزیر برائے ماحولیات مصدق ملک کے سیلاب کی تباہ کاریوں سے سالانہ بنیاد پر پاکستان کی جی ڈی پی کا تقریبا 2.5 فیصد حصہ ضائع ہو رہا ہے اب سوال یہ ہے کہ حکومت پیشگی اقدامات کے ذریعے کون سے اقدامات کر رہا ہے کہ سیلاب کی تباہ کاریوں کو کم کر کے نہ صرف قومی خزانے کو نقصان سے بچایا جا سکے بلکہ لوگوں کی مال و جائیداد اور زندگیوں کو بھی بچا سکے مگر بدقسمتی سے ہمیں گراؤنڈ پر کوئی کام نظر نہیں ارہا ایک طرف ہم ائی ایم ایف سے ترین شرائط پر قرض لیتے ہیں اور دوسری طرف حفاظتی اقدامات کی نہ ہونے کی صورت سے میں سیلاب کے دوران رسکیو, ریلیف اور ریہیبلیٹیشن کی مت میں قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے ایک محتاط اندازے کے مطابق چترال ٹاؤن کے اندر یعنیڑ گاؤں میں حالیہ سیلاب تباہ کن سیلاب کی وجہ سے تقریبا 40 کروڑ روپے کا نقصان ہوا اس سیلاب کی وجہ سے ہماری کھڑی فصلیں پروٹیکشن والز صاف پینے کا پانی نظام اپاشی لوگوں کے گھر سیلابی ریلے کی نظر ہو گئے کمیونٹی کے شدید اصرار پر ڈسٹرکٹ انتظامیہ نے ایکسیسو اوورگریزن پر پابندی لگا دی مگر بدقسمتی سے ماتحت عدالت نے مداخلت کر کے اس عمل کو التوا میں ڈال دیا جس کی وجہ سے کمیونٹی کے لوگوں میں شدید تحفظات پائے جاتے ہیں اب وقت اگیا ہے کہ صوبائی اور وفاقی سطح پر قانونی قانون سازی کر کے لوگوں کو تحفظ فراہم کیا جائے خصوصا چترال جیسی پہاڑی علاقوں ٹپوگرافی اور ٹرین والوں کے لیے یہ قانون سازی ناگزیر ہے اگر خدانخواستہ وار فٹنگ بنیاد پر ہنگامی اقدامات نہ اٹھائے گئے تو اسلام اباد پیمز جیسے افسوسناک واقعے کی جانب ہم بڑھ رہے ہیں

  • Samiullah Saadi September 19, 2026

    Absolutely yes!!

    This s the most burning issue of the day!!

Leave a Comment