قیامت 2026 کے بارے میں ایک پیش گوئی
English
سنہ 1960 میں دنیا کے معروف سائنسی جریدے سائنس میں ایک حیران کن مضمون شائع ہوا۔ اس کا عنوان تھا: ’’قیامت: جمعہ، 13 نومبر 2026‘‘۔ اس مضمون میں پیش گوئی کی گئی تھی کہ دنیا کی آبادی اتنی تیزی سے بڑھے گی کہ انسانیت خود اپنی تباہی کا سبب بن جائے گی۔
یہ مضمون آسٹریا سے تعلق رکھنے والے امریکی سائنس دان ہائنز وان فورسٹر اور ان کے دو شاگردوں نے لکھا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ انسان دوسری مخلوقات سے مختلف ہے، کیونکہ وہ ایک دوسرے سے رابطہ کر سکتے ہیں، مل کر کام کر سکتے ہیں اور مسائل حل کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ صلاحیت آبادی میں اضافے کی رفتار کو مسلسل بڑھا سکتی ہے، جس سے لوگوں کے لیے جگہ اور وسائل کی کمی پیدا ہو سکتی ہے۔
مصنفین نے گزشتہ دو ہزار سال کے دوران دنیا کی آبادی کے اعداد و شمار کی مدد سے اپنی پیش گوئی کی۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ کئی دہائیوں تک ان کے اندازے حقیقت کے کافی قریب رہے۔ سائنس دانوں، اخبارات اور سیاست دانوں نے بھی اس معاملے پر سنجیدگی سے بحث کی۔
لیکن تقریباً 1993 میں دنیا کی آبادی میں اضافہ ان کی پیش گوئی سے پیچھے رہنے لگا۔ معاشرتی تبدیلیوں اور خاندانوں میں بچوں کی تعداد کم ہونے کے باعث شرح پیدائش میں کمی آئی۔ آج دنیا میں شرح پیدائش 1960 کے مقابلے میں آدھی سے بھی کم ہے۔
اس لیے امکان یہی ہے کہ 13 نومبر 2026 کو کوئی ایسی تباہی نہیں آئے گی۔ تاہم یہ مضمون آج بھی اس بات کی دلچسپ مثال ہے کہ سائنسی تحقیق کو ایک غیر معمولی عنوان اور انداز کے ذریعے دنیا کی توجہ کا مرکز کیسے بنایا جا سکتا ہے۔
اس واقعے سے سبق ملتا ہے کہ بعض اوقات حیران کن خیالات کے ذریعے بھی اہم مسائل کی طرف لوگوں کی توجہ دلائی جا سکتی ہے۔ اگرچہ یہ پیش گوئی مبالغہ آمیز ثابت ہوئی، لیکن اس نے آبادی میں اضافے اور باہمی تعاون کی اہمیت پر غور کرنے کا موقع فراہم کیا۔
ماخذ: ایلن میک ایچرن، تاریخ کے پروفیسر، ویسٹرن یونیورسٹی۔ مضمون دی کنورسیشن سے دوبارہ شائع کیا گیا ہے۔