چترال میں سیاست کے بعد اب’پولوٹکس‘
English
چترال: گویا سیاست ہی کم تھی کہ اب چترال کے لوگ ’’پولوٹکس‘‘ تک پہنچ گئے ہیں—یعنی تقریباً ہر معاملے کو سیاسی مقابلے میں بدل دینے کی عادت۔
چترال پولو کے ادارے کی حالیہ ازسرنو تشکیل اور اس میں انتظامیہ اور دفاعی اداروں کی مبینہ شمولیت کے تنازعے نے ایک طرف یہ ضرور ظاہر کیا ہے کہ خطے میں پولو کو کتنی اہمیت حاصل ہو چکی ہے، لیکن دوسری طرف ان لوگوں کی طرف سے سخت تنقید بھی سامنے آئی ہے جو سمجھتے ہیں کہ پولو مکمل طور پر مقامی معاملہ ہونا چاہیے اور اسے بنیادی طور پر مقامی لوگ ہی چلائیں، جبکہ حکومت یا دفاعی اداروں کی غیر ضروری مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔
اس معاملے میں خاص بات یہ ہے کہ اس کے بعد کیا ہوا۔ نئے پولو ادارے کے اعلان کے بعد بعض سینئر اور تجربہ کار کھلاڑیوں نے نئی تشکیل کی کھلے عام مخالفت کی۔ یہ مخالفت صرف چترال تک محدود نہیں رہی بلکہ گلگت بلتستان کے اسکردو تک سے بھی آوازیں اٹھیں۔ اب سینئر اور تجربہ کار کھلاڑیوں کے ایک دوسرے گروپ نے سامنے آ کر نئی تشکیل کا خیرمقدم کیا ہے۔
یہ انسانی نفسیات کا ایک عام پہلو ہے کہ جب ایک شخص یا گروہ کسی چیز کی حمایت کرتا ہے تو اکثر دوسرا شخص یا گروہ اس کی مخالفت کے لیے سامنے آ جاتا ہے۔
چترال میں تو یہ رجحان تقریباً ایک معمول بن چکا ہے۔
ہم پہلے بھی ایسا دیکھ چکے ہیں۔ اگر کوئی شخص یا گروہ کسی سرکاری افسر کے خلاف مبینہ غلط کاری پر پریس کانفرنس کرے تو اکثر اگلے ہی روز کوئی دوسرا گروہ اسی افسر کی حمایت میں پریس کانفرنس کرتا نظر آتا ہے۔ یوں مسئلہ حل ہونے کے بجائے ایک تنازعے سے دوسرا تنازعہ پیدا ہو جاتا ہے۔
بدقسمتی سے اب یہی صورت حال چترال پولو کے معاملے میں بھی بنتی دکھائی دے رہی ہے۔
چترال میں پولو محض ایک کھیل نہیں بلکہ یہ خطے کی ثقافتی اور سماجی شناخت کا ایک اہم حصہ ہے۔ گزشتہ کئی برسوں میں متعدد افراد نے چترال پولو کو ملک اور خطے میں وسیع شناخت دلانے میں غیر معمولی کردار ادا کیا ہے۔
موجودہ دور کے نمایاں کھلاڑیوں میں شہزاد سکندر الملک کا ذکر ان کی کارکردگی کی بنیاد پر ضرور بنتا ہے۔ انہوں نے نوعمری ہی سے پولو کو سنجیدگی سے اپنایا، اسے اپنا مستقل مشغلہ اور پیشہ بنایا اور شمالی علاقوں میں فری اسٹائل پولو کے ایک طرح کے ’’رونالڈو‘‘ بن کر ابھرے۔ ان کی پُرکشش شخصیت اور میدانِ پولو میں غیر معمولی مہارت نے پورے خطے میں پولو کی مقبولیت اور فروغ میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔
اسی طرح مقبول علی خان اور ظفر علی شاہ جیسے تجربہ کار کھلاڑیوں نے بھی چترال پولو کے لیے قیمتی خدمات انجام دی ہیں اور ان کی گراں قدر خدمات کا مناسب اعتراف ہونا چاہیے۔
یہی وجہ ہے کہ موجودہ صورت حال انتہائی افسوسناک ہے۔
جب چترال پولو کے بڑے اور تجربہ کار کھلاڑی ایک دوسرے کے مقابل کھڑے کر دیے جائیں تو آخر نقصان کس کا ہوگا؟ پولو کا۔
یہ معاملہ صرف ایک نئی تشکیل، ایک ادارے یا انتظامی بندوبست کا نہیں ہے۔ اصل مسئلہ اس کھیل کا تحفظ ہے جو چترال کی شناخت کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔
یہاں پولو سے بڑھ کر بھی ایک سبق موجود ہے۔ جب ایک ہی معاشرے کے لوگ مسلسل ایک دوسرے کے مقابل کھڑے کیے جاتے ہیں تو آخرکار جس ادارے یا مقصد سے وہ وابستہ ہوتے ہیں، نقصان بھی اسی کا ہوتا ہے۔
یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے شیعہ اور سنی کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کر دیا جائے—آخر نقصان کس کا ہوگا؟ اسلام کا۔
اسی طرح جب چترال پولو سے وابستہ قابلِ احترام شخصیات ایک دوسرے کے ساتھ محاذ آرائی میں الجھ جاتی ہیں تو آخرکار سب سے بڑا نقصان چترال پولو ہی کا ہوتا ہے۔
باہر سے کوئی آ کر مستقل طور پر یہ اختلاف ختم نہیں کرے گا۔ اس اختلاف کو ختم کرنے کی ذمہ داری خود پولو سے وابستہ لوگوں پر عائد ہوتی ہے۔
آگے بڑھنے کا راستہ مزید پریس کانفرنسیں، مزید الزامات یا مزید گروہ بندی نہیں ہے۔ راستہ بات چیت، صلح صفائی اور باہمی رضامندی سے حل تلاش کرنے کا ہے۔
چترال نے پولو کو اپنی محبت، اپنے کھلاڑی اور اپنی شناخت دی ہے۔ جن لوگوں نے اس عظیم روایت کی خدمت کی ہے، انہیں اب مل کر اس روایت کو محفوظ کرنا چاہیے۔
پولو چترال کو متحد کرنے کا ذریعہ بنے، نہ کہ تقسیم کا ایک اور میدان۔