تضاد — ہم رحمت کے طلبگار ہیں، مگر خود کسی پر رحم نہیں کرتے

English

ترال: واقعی ہم عجیب لوگ ہیں۔ ہم تضاد اور منافقت کی ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں کہتے اور سکھاتے کچھ ہیں، لیکن عمل اس کے بالکل برعکس کرتے ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے رحم و کرم کی دعا بھی کرتے ہیں اور اس کی توقع بھی رکھتے ہیں، مگر اللہ کی مخلوق پر رحم کرنے کی اپنی ذمہ داری سے خود کو بری سمجھتے ہیں۔ یہ مخلوق انسانوں تک محدود نہیں، بلکہ جانور، پرندے، کیڑے مکوڑے، حتیٰ کہ درخت، پہاڑ اور دریا بھی اس میں شامل ہیں۔

ہم اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو بے دریغ تباہ کرتے ہیں، لیکن اللہ کے سامنے کھڑے ہو کر اس کی رحمت مانگتے ہوئے انتہائی عاجزی اختیار کرتے ہیں۔ آخر ہم اس متضاد سوچ کے ساتھ کیسے زندگی گزار سکتے ہیں؟ ہم خود کو اتنی بے باکی سے کیسے دھوکا دے سکتے ہیں؟

کیا اب وقت نہیں آگیا کہ ہم سمجھیں اور تسلیم کریں کہ کیا درست ہے اور کیا غلط؟ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس دنیا میں ایک مہذب، باوقار اور ذمہ دار زندگی گزارنے کے لیے بھیجا ہے۔ لیکن ہم نے دین کو صرف مذہبی رسومات کی ادائیگی تک محدود کر دیا ہے۔ دوسرے انسانوں، جانوروں اور قدرت کے ساتھ حسنِ سلوک اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کی قدر، حفاظت اور ان کے ساتھ ہم آہنگی سے رہنے کی اپنی ذمہ داری ہم بھول گئے ہیں۔

پاکستان کا بحران صرف سیاسی یا معاشی نہیں، بلکہ اخلاقی بھی ہے۔ جو معاشرہ اللہ سے رحمت مانگے لیکن دوسروں کو رحمت سے محروم رکھے، وہ دراصل خود کو دھوکا دے رہا ہے۔ سچا دین اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہماری عبادت اور ہمارا عمل ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوں۔

جب تک ہم سچائی، رحم دلی اور اللہ کی تمام مخلوقات کے احترام کو اپنی زندگی کا حصہ نہیں بناتے، ہماری عبادات محض رسمیں اور ہماری دعائیں محض الفاظ بن کر رہ جائیں گی۔

ہمارے سامنے انتخاب واضح ہے: یا تو ہم منافقت کے ساتھ زندگی گزارتے رہیں، یا اپنے ایمان کی اصل روح کو دوبارہ دریافت کریں — یعنی اپنے عمل میں سچائی، دیانت اور انسانیت پیدا کریں۔

سی این رپورٹ، 8 ستمبر 2026
Share:

Comments (3)

  • Ayub Shah September 8, 2026

    A very thought-provoking and meaningful message. True faith is not only about asking for Allah’s mercy, but also about showing mercy, kindness, and respect to His creation. Our actions should reflect the values we pray for. A powerful reminder for all of us to look within ourselves and bring more compassion into our daily lives.

  • Lal Jan September 9, 2026

    I agree with the view expressed in Chitral News. We are all hypocrites when put to test in situations where our personal interests are at stake no matter how much we claim to be a person of principals. If we ask for mercy from Allah, in lieu we owe mercy to Allah’s creations.

  • Salar Ali Shah September 9, 2026

    We are supposed to share the world with Allah’s other creations. Our Allah is “Rab ul Alemeen” (Lord of the universe) and our Prophet PBUH is “Rehmat ulil Alemeen (a mercy to all creation). There is no permission for muslims to be unkind to anyone, any creature, any creation, at any time.

Leave a Comment