بل گیٹس کو پاکستان سے دور رہنا چاہیے
English
تحریر: احسن گردیزی
جب وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر بل گیٹس سے ملاقات کی تو دونوں جانب سے زراعت اور بائیوٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے میں دلچسپی ظاہر کی گئی۔ اس پر ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: پاکستان ایک ایسے ارب پتی شخص کو، جو دنیا میں مختلف حوالوں سے متنازع بھی رہا ہے، زراعت جیسے اہم شعبے میں اتنا قریب کیوں لا رہا ہے؟
پاکستان کو یقیناً بہتر بیجوں، جدید زرعی طریقوں اور زرعی تحقیق کی ضرورت ہے۔ لیکن ہمیں یہ بھی احتیاط کرنی چاہیے کہ ہم بیجوں، ٹیکنالوجی اور خوراک کی پیداوار کے لیے غیر ملکی کمپنیوں پر حد سے زیادہ انحصار نہ کرنے لگیں۔
زراعت کوئی ایسا سافٹ ویئر نہیں جسے ہم خرید کر انسٹال کریں اور پھر بھول جائیں۔ بیج، خوراک اور زراعت کا تعلق ہماری قومی سلامتی، کسانوں کے روزگار اور ملک کی غذائی خودمختاری سے ہے۔ اگر غیر ملکی کمپنیاں اس شعبے میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل کرتی ہیں تو پاکستان کو یہ واضح طور پر معلوم ہونا چاہیے کہ ٹیکنالوجی کا مالک کون ہے، سپلائی کا نظام کس کے کنٹرول میں ہے اور آخرکار مالی فائدہ کس کو پہنچتا ہے۔
بل گیٹس کے حوالے سے بھی سوالات موجود ہیں۔ جیفری ایپسٹین کے ساتھ ان کے ماضی کے تعلقات پر سخت تنقید ہوئی ہے۔ اسی طرح ان کی قائم کردہ کمپنی مائیکروسافٹ کو ماضی میں امریکی عدالت کی جانب سے مسابقت مخالف طریقوں کے حوالے سے قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ معاملات لازماً انہیں زراعت میں کام کرنے سے نااہل نہیں بناتے، لیکن یہ ضرور بتاتے ہیں کہ بعض پاکستانی کیوں محتاط رہنا چاہتے ہیں۔
تاہم اصل سوال بل گیٹس سے زیادہ پاکستان کا ہے۔
ہمیں دنیا بھر سے سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور ماہرین کا خیرمقدم کرنا چاہیے، لیکن ہمیں اپنے اہم اور حساس شعبوں کا کنٹرول بیرونی طاقتوں کے حوالے نہیں کرنا چاہیے۔
بل گیٹس کو پاکستان کا زرعی نجات دہندہ بننے کی ضرورت نہیں۔ پاکستان کو خود مضبوط تحقیقی ادارے بنانے، اپنی بیج ٹیکنالوجی تیار کرنے، کسانوں کے حقوق کا تحفظ کرنے اور اپنی زراعت کا مستقبل خود سنبھالنے کے قابل ہونا چاہیے۔ اصل مقصد کسی ارب پتی پر انحصار نہیں، بلکہ زرعی خود انحصاری ہونا چاہیے۔