عدلیہ، حکومتی جواز اور آمرانہ قانون پسندی
English
تحریر: اسد الملک
عدلیہ کے پاس کسی طاقتور حکومت کو جسمانی طور پر روکنے کی طاقت شاید نہ ہو، لیکن اس کے پاس ایک اہم اختیار ضرور ہوتا ہے: ایسے حکومتی اقدامات کو قانونی اور اخل جواز دینے سے انکار کرنا جو آئین اور قانون کے خلاف ہوں۔ حکومتیں، حتیٰ کہ آمرانہ حکومتیں بھی، اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے کے لیے قانونی حیثیت اور عوامی قبولیت چاہتی ہیں۔
“آمرانہ قانون پسندی” (Autocratic Legalism) سے مراد وہ طریقہ ہے جس میں حکمران قانون اور آئینی ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے جمہوری اداروں کو کمزور اور اپنے اقتدار کو مضبوط کرتے ہیں، جبکہ بظاہر سب کچھ قانون کے مطابق دکھائی دیتا ہے۔
اس عمل کا آغاز اکثر پارلیمنٹ پر سیاسی کنٹرول سے ہوتا ہے۔ اس کے بعد قوانین اور آئین میں ایسی ترامیم کی جاتی ہیں جو حکمرانوں کے لیے اقتدار کو مضبوط کرنا آسان بناتی ہیں۔ عدالتی تقرریوں پر اثرانداز ہو کر عدالتوں کو اپنے تابع کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے، جبکہ بعض اوقات موجودہ عدالتوں کے ساتھ متوازی یا خصوصی عدالتیں بھی قائم کی جاتی ہیں۔
جب عدالتیں حکومتی اثر میں آ جائیں تو اختیارات کی تقسیم اور اداروں کے درمیان توازن کمزور ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد انتخابی اداروں، احتسابی اداروں، پراسیکیوشن، بیوروکریسی اور میڈیا پر بھی اثرانداز ہونے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ سیاسی مخالفین کے خلاف قانونی کارروائیاں اور اختلافی آوازوں کو دبانے کے لیے قانونی طریقے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
پاکستان کی تاریخ میں ریاست بنام دوسو (1958) کا مقدمہ ایک اہم مثال ہے۔ اس مقدمے میں عدالتی فیصلے نے پہلے مارشل لا کو قانونی جواز فراہم کیا۔ اگرچہ عدالت کی مزاحمت شاید طاقت کے استعمال کو فوری طور پر نہ روک سکتی، لیکن ایسا فیصلہ حکمرانوں کو مطلوب قانونی جواز دینے سے انکار ضرور کر سکتا تھا۔
اس لیے عدلیہ کی آزادی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ عدالتیں ایسے احکامات جاری کریں جن پر فوراً عمل ہو سکے۔ بعض اوقات ججوں کو ایسے آئینی اصول بھی بیان کرنا پڑتے ہیں جن پر فوری عمل درآمد مشکل ہو، لیکن اس طرح وہ غیر آئینی اقدامات کو قانونی جواز دینے سے گریز کر سکتے ہیں۔
پاکستان میں عدالتی ڈھانچے، آئینی ترامیم، خصوصی عدالتوں اور انتخابی قوانین میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیتے وقت یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ان کا عدلیہ کی آزادی، آئین کی بالادستی اور اداروں کے درمیان توازن پر کیا اثر پڑتا ہے۔ .. بشکریہ ؛ ڈان