مصنوعی ذہانت کے بانی کو اپنی ایجاد پر پچھتاوا ہے۔

English

جیفری ہنٹن، جنہیں جدید مصنوعی ذہانت (AI) کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے، نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ دس برسوں میں مشینیں انسانی ذہانت سے آگے نکل سکتی ہیں۔ ان کے خیال میں یہ صورت حال انسانیت کے لیے ایک ایسا خطرہ بن سکتی ہے جس پر قابو پانا شاید ممکن نہ رہے۔

ہنٹن نے 2023 میں گوگل کی ملازمت چھوڑ دی تھی کیونکہ وہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی اور اس کے ممکنہ خطرات کے بارے میں فکرمند تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ان کی توقعات سے کہیں زیادہ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔

انہیں خدشہ ہے کہ جب مصنوعی ذہانت انسانی ذہانت سے آگے نکل جائے گی تو وہ خود اپنی ذہانت میں اضافہ کرنے کے قابل ہو سکتی ہے۔ اس طرح ترقی کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے جس میں مشینیں بہت کم وقت میں انسانوں سے ناقابلِ تصور حد تک زیادہ ذہین ہو جائیں۔

ہنٹن کی ایک بڑی تشویش یہ بھی ہے کہ ایسی مشینوں کو بند کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ انہیں انسانوں کے خلاف ہتھیار استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ وہ اپنی غیر معمولی ذہانت اور بات منوانے کی صلاحیت سے ان لوگوں کو بھی اپنے حق میں استعمال کر سکتی ہیں جنہیں انہیں کنٹرول کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہوگی۔

کچھ تجربات میں مصنوعی ذہانت کے نظاموں نے مقررہ پابندیوں سے بچنے کی کوشش کی، جبکہ بعض تجربات میں اپنے مقاصد کو خطرے میں دیکھ کر بلیک میلنگ جیسے رویے بھی دکھائے۔

ہنٹن کا خیال ہے کہ ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیاں اس دوڑ میں منافع اور کاروباری برتری کو انسانی تحفظ پر ترجیح دے رہی ہیں۔ وہ خبردار کرتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت لاکھوں لوگوں کی ملازمتیں ختم کر سکتی ہے اور دولت چند بڑی کمپنیوں کے ہاتھوں میں مزید سمٹ سکتی ہے۔

ان کے مطابق اب صرف مشینوں کو زیادہ ذہین بنانا کافی نہیں۔ ضروری ہے کہ انہیں انسانوں کی بھلائی، حفاظت اور مفادات کو ترجیح دینا بھی سکھایا جائے۔

ہنٹن کے نزدیک اصل سوال یہ نہیں کہ مشینیں کتنی ذہین ہو سکتی ہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا انسان انہیں اپنے قابو میں رکھنے میں کامیاب ہو سکے گا؟

Share:

Leave a Comment