آئینِ پاکستان میں تیل اور گیس کی مشترکہ ملکیت: صوبوں کے حقوق اور وفاق کی بالادستی

English

پاکستان کے آئین میں اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے آرٹیکل 172(3) کا شامل کیا جانا ایک غیر معمولی اور دور رس تبدیلی تھی۔ اس ترمیم نے تیل اور گیس کی ملکیت کے حوالے سے پہلے سے موجود نظام کو تبدیل کر دیا۔ نئے آئینی نظام کے تحت صوبوں کی حدود میں پیدا ہونے والے تیل اور گیس کے وسائل پر وفاق اور متعلقہ صوبے دونوں کو برابر کا شریک مالک قرار دیا گیا۔ تاہم، اس آئینی حق کو تسلیم کیے جانے کے 16 سال گزرنے کے باوجود صوبے اس مشترکہ ملکیت کے مکمل فوائد حاصل کرنے سے محروم ہیں۔

جس زمانے میں امریکہ کے معروف سرمایہ دار جان ڈی راک فیلر ریاست پنسلوانیا کے تیل کے ذخائر سے تیل نکال رہے تھے، اسی دور میں ہندوستان میں تیل سے متعلق پہلا قانون، پیٹرولیم ایکٹ 1881 نافذ کیا گیا۔ اس قانون میں تیل کی ملکیت کا کوئی ذکر نہیں تھا بلکہ اس کا مقصد صرف تیل کی درآمد، نقل و حمل اور اسے اپنے پاس رکھنے کے معاملات کو منظم کرنا تھا۔ امریکہ میں تیل اور گیس کے وسائل کی نجی ملکیت کا تصور موجود تھا اور وہاں کی سپریم کورٹ نے 1895ء میں مقدمہ ’براؤن بمقابلہ اسپل مین‘ (Brown vs Spilman) میں بھی اس اصول کو تسلیم کیا تھا۔ لیکن برصغیر میں یہ تصور کبھی رائج نہ ہو سکا۔ یہاں عملاً ان وسائل پر ریاستی اختیار ہی قائم رہا۔

انڈین کونسلز ایکٹس 1892ء اور 1909ء، نیز گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹس 1915ء اور 1919ء کے تحت مرکزی حکومت کو تیل کے معاملات کو منظم کرنے کا اختیار دیا گیا، لیکن ان قوانین میں بھی ملکیت کے بارے میں کوئی واضح بات نہیں کی گئی۔ پیٹرولیم ایکٹ 1934ء نے بھی اس صورت حال میں کوئی خاص تبدیلی نہیں کی۔ 1935ء کے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ سے پہلے ہندوستان کا حکومتی نظام وحدانی تھا، یعنی تمام اہم اختیارات مرکز کے پاس تھے۔ 1935ء کے بعد جب وفاقی نظام متعارف ہوا تو تیل کو وفاقی دائرۂ اختیار کا موضوع قرار دیا گیا۔

یہی صورت حال پاکستان کے 1956ء، 1962ء اور 1973ء کے آئین میں بھی برقرار رہی، البتہ گیس کو بھی وفاقی موضوع قرار دیا گیا۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم نے اس قانونی نظام کو تبدیل کر دیا اور آرٹیکل 172(3) متعارف کرایا، جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے:

"موجودہ معاہدوں اور ذمہ داریوں کے تابع، کسی صوبے کے اندر یا اس سے ملحقہ علاقائی سمندری حدود میں موجود معدنی تیل اور قدرتی گیس کی ملکیت متعلقہ صوبے اور وفاقی حکومت میں مشترکہ اور مساوی ہوگی۔"

اگرچہ آئین کے آرٹیکل 97 اور 137 کے تحت وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے انتظامی اختیارات اپنی اپنی حدود میں برقرار ہیں، لیکن تیل اور گیس کی مشترکہ ملکیت اور ان وسائل کو وفاقی قانون سازی کی فہرست کے حصہ دوم میں شامل کیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل (CCI) کو آرٹیکل 154 کے تحت ان وسائل سے متعلق پالیسیاں بنانے، ان پر عمل درآمد کی نگرانی کرنے اور متعلقہ اداروں کے معاملات کو کنٹرول کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

مشترکہ مفادات کونسل کی منظور کردہ پیٹرولیم پالیسی 2012ء کی شق 1.3.6 کے تحت ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پیٹرولیم کنسیشنز (DGPC) کی ازسرنو تنظیم کا فیصلہ کیا گیا، جس میں وفاقی اور صوبائی نمائندوں کو شامل کیا گیا۔ اس نئے ادارے کی قانونی ذمہ داریوں میں ملک بھر میں تیل اور گیس کی تلاش اور پیداوار کے حقوق دینے، ان کے ضابطے طے کرنے، انہیں منسوخ کرنے اور ان کی نگرانی جیسے معاملات کے فیصلے کرنا بھی شامل ہے۔ یہ تمام امور پیٹرولیم رولز 2013ء کے مطابق انجام دیے جانے ہیں۔

افسوس ناک بات یہ ہے کہ اس ازسرنو تشکیل شدہ ادارے میں شامل صوبائی ڈائریکٹرز کو تیل اور گیس کے حقوق دینے، ان کے ضابطے طے کرنے یا انہیں منسوخ کرنے جیسے اہم معاملات میں عملاً کوئی مؤثر اختیار حاصل نہیں۔ ادارے کا وفاقی ڈائریکٹر ان معاملات کے فیصلے یک طرفہ طور پر کرتا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسے یہ بھی تسلیم نہیں کہ چاروں صوبائی ڈائریکٹرز مل کر بھی کسی معاملے میں اس کے فیصلے کو مسترد کر سکتے ہیں۔

یہ طرزِ عمل فرانس کے بادشاہ لوئی چہاردہم (Louis XIV) کے اس مشہور اعلان کی یاد دلاتا ہے جو اس نے 1655ء میں پیرس کی پارلیمان کے سامنے کیا تھا:

"میں ہی ریاست ہوں" (L'état, c'est moi)۔

وفاقی ڈائریکٹر ایک سرکاری ملازم ہے اور پانچ رکنی ادارے کا صرف ایک رکن ہے۔ اسے یہ حق حاصل نہیں کہ وہ خود کو پورا ادارہ تصور کرے اور تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لے۔ اگرچہ عملاً وہ ایسا ہی کر رہا ہے، لیکن یہ رویہ محض کسی ایک شخص کی ذاتی سوچ کا نتیجہ نہیں بلکہ تیل اور گیس کے وسائل پر اپنی بالادستی برقرار رکھنے کی وفاقی حکومت کی خواہش کی عکاسی کرتا ہے، حالانکہ آئین اس کے برعکس ایک مشترکہ نظام کا تقاضا کرتا ہے۔

سپریم کورٹ نے 2006ء میں مقدمہ ’وطن پارٹی بنام وفاق پاکستان‘ (Wattan Party vs Federation of Pakistan) میں قرار دیا تھا کہ آرٹیکل 154 کے تحت مشترکہ مفادات کونسل کی منظور کردہ پالیسیاں وفاقی حکومت کے لیے بھی لازم اور قابلِ پابندی ہیں۔ چنانچہ اگر وفاقی حکومت کو پیٹرولیم پالیسی 2012ء کی کسی شق پر، خصوصاً ازسرنو تشکیل شدہ DGPC کے کردار کے حوالے سے، اعتراض ہے تو اسے اس پالیسی کی خلاف ورزی کرنے کے بجائے آئین کے آرٹیکل 154(7) کے تحت معاملہ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں لے جانا چاہیے۔

معروف فلسفی جان لاک نے اپنی کتاب ’دوسرا معاہدۂ حکومت‘ (Second Treatise of Government) میں لکھا تھا:

"زمین اور اس میں موجود ہر چیز انسانوں کو ان کی زندگی کی ضروریات اور آسائشوں کے لیے عطا کی گئی ہے۔ لیکن جب یہ چیزیں انسانوں کے استعمال کے لیے دی گئی ہیں تو لازماً ان کے حصول اور ملکیت کا کوئی نہ کوئی طریقہ بھی ہونا چاہیے۔"

پاکستان کا آئین بھی تیل اور گیس کے وسائل کی ملکیت، انتظام اور کنٹرول کے لیے ایک ایسا طریقہ فراہم کرتا ہے جس کی بنیاد وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون اور اختیارات کی منصفانہ تقسیم پر ہے۔ لیکن افسوس کہ وفاقی حکومت کے بعض اہلکار اپنے صوبائی ہم منصبوں کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں جیسے وہی پوری ریاست ہوں اور باقی سب ان کے ماتحت۔

اصل سوال یہ ہے کہ جب آئین نے تیل اور گیس کے وسائل میں وفاق اور صوبوں کو برابر کا شریک مالک قرار دے دیا ہے تو پھر ان وسائل کے فیصلوں میں صوبوں کو برابر کا اختیار کیوں نہیں دیا جا رہا؟ اٹھارہویں ترمیم کا مقصد صرف آئین کی کتاب میں الفاظ کا اضافہ کرنا نہیں تھا بلکہ صوبوں کو ان کے جائز حقوق دینا بھی تھا۔

Share:

Leave a Comment