پاکستان نے کچھ قرض واپس کرنے کے لیے مزید بھاری قرض لے لیا۔
English
سے بانڈز کے ذریعے 3 ارب ڈالر حاصل کر لیے ہیں۔
حکومت نے یہ رقم دو حصوں میں حاصل کی:
- 1.75 ارب ڈالر ساڑھے پانچ سال کے لیے، 7.5 فیصد شرح سود پر۔
- 1.25 ارب ڈالر 10 سال کے لیے، 7.9 فیصد شرح سود پر۔
یہ پاکستان کی تاریخ میں ایک ہی بار میں کی جانے والی سب سے بڑی بین الاقوامی بانڈ فروخت ہے۔ سرمایہ کاروں نے تقریباً 6 ارب ڈالر مالیت کے بانڈز خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی، جو پاکستان پر عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کی اچھی علامت ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اسے ملکی معیشت پر سرمایہ کاروں کے دوبارہ بڑھتے ہوئے اعتماد کا مثبت اشارہ قرار دیا۔ ان کے مطابق حکومت کی حکمت عملی یہ ہے کہ مہنگے قلیل مدتی قرضوں کی جگہ طویل مدتی قرضے لیے جائیں، تاکہ ایک ہی وقت میں بڑی رقم واپس کرنے کا دباؤ اور مالی خطرات کم ہوں۔
حاصل ہونے والی 3 ارب ڈالر کی رقم سعودی عرب کے اس قرض کی واپسی کے لیے استعمال ہوگی جس کی ادائیگی اگلے ماہ ہونا ہے۔ پاکستان نے یہ قرض اصل میں متحدہ عرب امارات کا قرض واپس کرنے کے لیے حاصل کیا تھا۔
2021 کے مقابلے میں موجودہ بانڈز پر شرح سود زیادہ ہے، جس کی بڑی وجہ دنیا بھر میں شرح سود، خصوصاً امریکی ٹریژری بانڈز کی شرح سود میں نمایاں اضافہ ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی مالیاتی حالات کو دیکھتے ہوئے پاکستان نے نسبتاً مناسب شرح پر یہ رقم حاصل کی ہے۔
اس رقم سے پاکستان کی مجموعی بیرونی مالی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی اور ضرورت پڑنے پر دیگر قلیل مدتی قرضوں کی جگہ بھی یہ رقم استعمال کی جا سکتی ہے۔
— CN رپورٹ، 7 ستمبر 2026