Here is a thought that keeps pounding on the door of the mind: what if, by some sheer stroke of divine intervention, every single government department in Pakistan actually started doing its job as it is supposed to do i.e honestly, efficiently, and on time?
Take a hard look at the reality today. Finding a public office that functions like it should is like hunting for a unicorn. Most public servants don’t view their posts as a civic duty; they treat them as a personal annuity. Serving the public isn’t seen as a job description – it’s framed as a grand favor, and favors in Pakistan carry a heavy price tag. We all know its name: bribery.
To make matters worse, these offices are suffocating under their own weight. From the sprawling halls of federal ministries down to the smallest district offices, departments are bloated with vastly more personnel than the work could ever demand. This isn’t need-based capacity building; it’s political patronage, plain and simple. Jobs are handed out to reward favorites and party loyalists, while actual merit gets kicked to the curb time after time.
Look at nations that actually get things done. Hubs like Singapore or the UAE run lean, hyper-efficient machines where every role serves a clear purpose, and talent, not ties determine who gets hired and promoted. Pakistan, meanwhile, hoards three times the headcount to produce a fraction of the results.
So strip away the grand economic theories and ask the real question: what happens if Pakistan simply runs its existing system with cold, hard discipline and uncompromising integrity? No miracle bailouts. No bloated new budgets. Just basic honesty.
The transformation would be seismic within a year.
Files would actually move across desks without a wad of cash pinned to the folder. Infrastructure projects would wrap up on schedule instead of rotting into decade long monuments of corruption. Tax money would deliver public service, build decent roads, hospitals and educational institutions instead of funding private villas and foreign bank accounts. And the shattered contract of trust between the citizen and the state would finally begin to heal.
We aren’t broke on resources; we’re bankrupt on accountability. Put the tools we already own to their intended work, and watch how fast the entire country shifts on its axis. .. CN report, 26 July 2026
اگر ایک معجزہ ہو جائے اور حکومت واقعی اپنا کام کرنے لگے
کبھی کبھی ذہن میں ایک عجیب سا خیال بار بار جنم لیتا ہے۔ کیا ہو اگر کسی معجزے کے نتیجے میں پاکستان کا ہر سرکاری محکمہ اپنی ذمہ داریاں پوری ایمانداری، دیانت داری، اہلیت اور وقت کی پابندی کے ساتھ ادا کرنا شروع کر دے؟
آج کی حقیقت پر نظر ڈالیں تو ایسا سرکاری دفتر تلاش کرنا، جہاں کام قانون اور ضابطے کے مطابق ہو، شاید خواب ہی معلوم ہوتا ہے۔ بیشتر سرکاری ملازمین اپنی ملازمت کو عوام کی خدمت نہیں بلکہ ذاتی مراعات کا مستقل ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک کسی شہری کا جائز کام کرنا ان کی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک احسان ہے، اور پاکستان میں احسان کی قیمت سب جانتے ہیں: رشوت۔
بدقسمتی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ ہمارے سرکاری ادارے ضرورت سے کئی گنا زیادہ ملازمین کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ وفاقی وزارتوں سے لے کر تحصیل اور ضلعی دفاتر تک، ہر جگہ عملہ اس قدر زیادہ ہے کہ اگر نصف بھی موجود ہو تو سرکاری امور بخوبی چل سکتے ہیں۔ یہ اضافی بھرتیاں کسی ضرورت کے تحت نہیں بلکہ سیاسی نوازشات، سفارش اور وفاداریاں خریدنے کے لیے کی جاتی ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ میرٹ، قابلیت اور محنت ہر بار سیاسی مصلحتوں کے ہاتھوں قربان ہو جاتی ہے۔
اب ان ممالک پر نظر ڈالیں جنہیں دنیا اچھی حکمرانی کی مثال کے طور پر پیش کرتی ہے۔ سنگاپور اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک میں سرکاری نظام مختصر مگر انتہائی مؤثر ہے۔ ہر عہدہ ایک واضح مقصد کے لیے ہوتا ہے، ہر ملازم اپنی ذمہ داری سے واقف ہوتا ہے، اور ترقی صرف قابلیت اور کارکردگی کی بنیاد پر ملتی ہے، تعلقات یا سفارش پر نہیں۔ اس کے برعکس پاکستان میں عملہ کئی گنا زیادہ، اخراجات کئی گنا زیادہ، مگر کارکردگی انتہائی ناقص ہے۔
اس لیے تمام معاشی فلسفوں، قرضوں، امدادی پیکجوں اور اصلاحاتی نعروں کو ایک لمحے کے لیے بھول کر صرف ایک سوال پر غور کیجیے: اگر پاکستان اپنے موجودہ نظام کو ہی ایمانداری، سخت نظم و ضبط اور غیر جانبدار احتساب کے ساتھ چلانا شروع کر دے تو کیا ہوگا؟ نہ کسی نئے قرض کی ضرورت ہوگی، نہ کسی امدادی پیکیج کی، نہ کسی معجزاتی معاشی منصوبے کی۔ صرف دیانت داری کی ضرورت ہے۔
صرف ایک سال میں منظر بدلنا شروع ہو جائے گا۔
فائلیں رشوت کے بغیر ایک میز سے دوسری میز تک پہنچیں گی۔ ترقیاتی منصوبے برسوں تک بدعنوانی کی نذر ہونے کے بجائے مقررہ مدت میں مکمل ہوں گے۔ عوام کے ٹیکس سے جدید سڑکیں، معیاری اسپتال، بہترین تعلیمی ادارے اور بنیادی سہولتیں تعمیر ہوں گی، نہ کہ چند بااثر افراد کی محلات نما کوٹھیاں اور بیرونِ ملک خفیہ بینک اکاؤنٹس۔ ریاست اور عوام کے درمیان ٹوٹا ہوا اعتماد دوبارہ بحال ہونا شروع ہو جائے گا، اور لوگ پہلی بار محسوس کریں گے کہ حکومت واقعی ان کی خدمت کے لیے موجود ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان وسائل کی کمی کا شکار نہیں، بلکہ دیانت داری، جوابدہی اور مؤثر حکمرانی کی کمی کا شکار ہے۔ اگر ہمارے پاس موجود وسائل، ادارے اور افرادی قوت اپنے اصل مقصد کے لیے استعمال ہونے لگیں تو اس ملک کی تقدیر بدلنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔
پاکستان کو معجزے کی ضرورت نہیں، صرف ایماندار حکمرانی کی ضرورت ہے۔
سی این رپورٹ، 26 جولائی 2026 ..