رمضان المبارک میں حسبِ روایت مساجد میں فرض نمازوں کے بعد اجتماعی دعا کے دوران زیادہ تر زور گناہوں کی معافی پر دیا جاتا ہے، جبکہ گناہوں سے بچنے اور عملی پرہیزگاری اختیار کرنے کی دعائیں تقریباً نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں۔ اس طرزِ فکر کے نتیجے میں ایک عام آدمی، جو کہ معاشرے کی اکثریت پر مبنی ہے’ جس کی دینی سمجھ اور فکری وسعت محدود ہو، بآسانی یہ سمجھ لیتا ہے کہ وہ روزمرہ زندگی میں جو گناہ کرتا ہے خصوصاً دوسروں کے حقوق اور معاشرتی معاملات میں جو کوتاہیاں کرتا ہے، وہ محض روزے رکھنے اور عبادات کرنے اور بلخصوص رمضان میں عبادات کرنے سے دھل جائیں گی۔
یہ ذہنیت اسلام کی حقیقی روح کے منافی ہے۔ اسلام صرف گناہوں کی معافی کا پیغام نہیں دیتا بلکہ گناہوں سے اجتناب، کردار کی اصلاح، حقوق العباد کی ادائیگی اور معاشرتی ذمہ داری کا درس بھی دیتا ہے۔ اگر عبادات انسان کے اخلاق، معاملات اور رویّوں میں مثبت تبدیلی پیدا نہ کریں تو وہ اپنی اصل غرض و غایت سے محروم رہ جاتی ہیں۔
مسلمان معاشروں میں اخلاقی معیار کی پستی کی ایک وجہ یہی یک رُخی بیانیہ بھی ہے، جہاں توبہ اور معافی کا ذکر تو بار بار ہوتا ہے مگر اصلاحِ نفس اور عملی تبدیلی پر توجہ نہیں دی جاتی ۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم اس بیانیے اور سوچ کے زاویے کا ازسرِ نو جائزہ لیں، تاکہ رمضان محض رسمی عبادات کا مہینہ نہ رہے بلکہ حقیقی اخلاقی و
روحانی انقلاب کا ذریعہ بن سکے۔
… CN report, 21 Feb 2026
One thought on “گناہ پر اصرار، معافی کی تکرار — کب تک؟”
You are absolutely right. It’s supposed to be the other way round but unfortunately and deliberately I must say that our beautiful religion is put on wrong priorities in this country.