چترال کی باصلاحیت خاتون نے ٹیلی نار میں اعلیٰ ذمہ داری سنبھال لی

چترال: چترال سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان خاتون پروفیشنل پاکستان کی بڑی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں میں سے ایک ٹیلی نار پاکستان کے اعلیٰ انتظامی عہدے تک پہنچ گئی ہیں۔

صرف34 سال کی عمر میں بختاور سالک کو ٹیلی نار پاکستان میں بزنس انٹیلی جنس (BI) اور مصنوعی ذہانت (AI) کی نائب صدر مقرر کیا گیا ہے۔ یہ اس لحاظ سے بھی قابلِ ذکر کامیابی ہے کہ ان کے کیریئر کا آغاز ٹیکنالوجی سے نہیں بلکہ بزنس اینالیسس سے ہوا تھا۔

بزنس اینالیسس نے انہیں یہ سمجھنے میں مدد دی کہ ادارے فیصلے کس طرح کرتے ہیں، جبکہ قیمتوں کے تعین کے شعبے نے انہیں صارفین اور مارکیٹ کی بہتر سمجھ دی۔ بعد ازاں اینالیٹکس اور بزنس انٹیلی جنس کے ذریعے وہ ڈیٹا کی دنیا میں مزید آگے بڑھیں، اور یہی تجربہ بالآخر انہیں مصنوعی ذہانت کی قیادت تک لے گیا۔

بختاور سالک ٹیکنالوجی کے تیزی سے بدلتے ہوئے ماحول میں مسلسل سیکھنے کی اہمیت پر زور دیتی ہیں۔ نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (NUST) میں انجینئرنگ کی طالبات سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ٹیکنالوجی کے شعبے کو ایک ’’انتہائی تیزی سے بدلنے والا ماحول‘‘ قرار دیا اور نوجوان پروفیشنلز پر زور دیا کہ وہ مسلسل اپنی مہارتوں میں اضافہ کرتے رہیں۔

بختاور کی یہ کامیابی چترال کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے، جو پاکستان کے بڑے کاروباری اور کارپوریٹ مراکز سے جغرافیائی طور پر بہت دور ہے۔

دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں، خصوصاً خواتین، کے لیے ملک کی کارپوریٹ اور ٹیکنالوجی کی دنیا بعض اوقات بہت دور اور ناقابلِ رسائی محسوس ہوتی ہے۔ بختاور کا سفر اس بات کا ثبوت ہے کہ جغرافیائی فاصلے پیشہ ورانہ خوابوں کی راہ میں لازمی رکاوٹ نہیں ہوتے۔

ان کا کیریئر ٹیکنالوجی سے بھی آگے ایک اہم سبق دیتا ہے: ہر کیریئر کا پہلے سے مکمل منصوبہ بنانا ضروری نہیں۔ بعض اوقات ایک موقع ہی اگلے موقع کی بنیاد بن جاتا ہے۔

بختاور سالک نے کاروباری معاملات کا تجزیہ کرنے سے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا۔ آج وہ پاکستان کی ایک بڑی ٹیلی کام کمپنی میں ڈیٹا، بزنس انٹیلی جنس اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کی قیادت کرنے والی ٹیم کا حصہ ہیں۔

چترال سے پاکستان کی کارپوریٹ دنیا کے اعلیٰ ایوانوں تک بختاور سالک کا سفر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ صلاحیت کہیں سے بھی ابھر سکتی ہے—ضرورت صرف اسے آگے بڑھنے کاموقع دینے کی  ہے۔

۔۔ سی این رپورٹ، 30 اگست 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *