قرض پر قائم معیشت کا کڑوا سچ
پاکستان نے اپنے قیام کے بعد سے ہی ترقی، دفاع، درآمدات اور حکومتی اخراجات پورے کرنے کے لیے بیرونی قرضوں پر انحصار کیا۔ ابتدا میں یہ قرضے وقتی ضرورت سمجھے گئے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہی قرضے قومی معیشت کی زنجیریں بن گئے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ ملک کی آمدنی کا ایک بڑا حصہ صرف قرضوں کے سود اور اصل رقم کی ادائیگی میں خرچ ہو جاتا ہے، جبکہ عوام مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولتوں کی کمی کا شکار ہیں۔
قرضوں کا پہاڑ
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کا مجموعی عوامی قرضہ اور واجبات 2025 کے اختتام تک تقریباً 70 ہزار ارب روپے (تقریباً 250 ارب ڈالر سے زائد) تک پہنچ چکے ہیں۔ صرف گزشتہ چند دہائیوں میں قرضوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ یہ قرضے زیادہ تر پیداواری شعبوں میں سرمایہ کاری کے بجائے درآمدات، خسارے پورے کرنے اور پرانے قرضوں کی ادائیگی کے لیے استعمال ہوتے رہے۔
مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں وفاقی حکومت نے قرضوں کے سود کی ادائیگی کے لیے تقریباً 9,000 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ یہ رقم وفاقی ترقیاتی بجٹ، تعلیم، صحت اور کئی سماجی شعبوں کے مجموعی اخراجات سے کہیں زیادہ ہے۔ یعنی عوام کے ٹیکس اور قومی وسائل کا بڑا حصہ بینکوں، مالیاتی اداروں اور بیرونی قرض دہندگان کو واپس چلا جاتا ہے۔
قرض لینے کے لیے قرض
پاکستان اس وقت ایک ایسے “قرضی چکر” میں پھنس چکا ہے جہاں پرانے قرضوں کے سود اور قسطوں کی ادائیگی کے لیے نئے قرضے لینے پڑتے ہیں۔ اسے معاشی زبان میں Debt Trap کہا جاتا ہے۔ اگر ایک ملک اپنی آمدنی سے قرضوں کی ادائیگی نہ کر سکے اور مسلسل نئے قرضوں پر انحصار کرے تو اس کی مالی خودمختاری خطرے میں پڑ جاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ہر چند سال بعد پاکستان کو آئی ایم ایف کے دروازے پر جانا پڑتا ہے۔ آئی ایم ایف قرض تو دیتا ہے، مگر اس کے ساتھ سخت شرائط بھی عائد کرتا ہے، جیسے:
-
بجلی، گیس اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ
-
سبسڈی کا خاتمہ
-
ٹیکسوں میں اضافہ
-
سرکاری اداروں کی نجکاری
-
کرنسی کی قدر میں کمی
ان پالیسیوں کا بوجھ بالآخر عام شہری پر پڑتا ہے، جبکہ حکمران طبقات اکثر اپنے مراعات یافتہ نظام کو برقرار رکھتے ہیں۔
حکمرانوں کی عیاشیاں
قومی معیشت کی بدحالی کے باوجود حکمران اشرافیہ کی شاہانہ طرزِ زندگی میں کمی نظر نہیں آتی۔ بڑے بڑے پروٹوکول، سرکاری رہائش گاہیں، غیر ضروری غیر ملکی دورے، لگژری گاڑیاں اور مراعات پر اربوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔ جب ایک غریب ملک اپنے وسائل کا بڑا حصہ غیر پیداواری اخراجات پر خرچ کرے تو قرضوں سے نجات کا خواب مزید دور ہو جاتا ہے۔
عوام سے کفایت شعاری کی اپیل کی جاتی ہے، مگر حکومتی سطح پر عملی مثال کم ہی دکھائی دیتی ہے۔ یہی تضاد عوام میں مایوسی اور بداعتمادی پیدا کرتا ہے۔
کیا آئی ایم ایف واقعی پاکستان کو آزاد دیکھنا چاہتا ہے؟
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ عالمی مالیاتی نظام طاقتور ممالک کے مفادات کے تابع ہے۔ آئی ایم ایف کا بنیادی مقصد اپنے قرضوں کی واپسی اور مالیاتی استحکام کو یقینی بنانا ہوتا ہے، نہ کہ کسی ملک کی مکمل معاشی خودمختاری۔ جب ایک ملک بار بار قرض لیتا ہے تو اس کی پالیسی سازی پر بیرونی اثر و رسوخ بڑھ جاتا ہے۔ ایسی صورت میں آزادانہ معاشی فیصلے کرنا مشکل ہو جاتا ہے، کیونکہ ہر قدم قرض دہندگان کی شرائط اور نگرانی سے مشروط ہوتا ہے۔
البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ تمام ذمہ داری صرف بیرونی اداروں پر ڈال دینا کافی نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان نے اپنے وسائل کو کیوں مضبوط نہیں بنایا؟ کیوں برآمدات، صنعت، زراعت، ٹیکنالوجی اور ٹیکس نظام کو مستحکم نہ کیا گیا؟ کیوں قومی معیشت کو خود کفیل بنانے کے بجائے آسان راستہ یعنی قرض لینے کو ترجیح دی گئی؟
آگے کا راستہ
پاکستان کو قرضوں کی زنجیروں سے نکالنے کے لیے صرف نعرے نہیں، بلکہ عملی اور سخت فیصلوں کی ضرورت ہے:
-
قومی کفایت شعاری: حکومتی اخراجات اور مراعات میں نمایاں کمی کی جائے۔
-
ٹیکس اصلاحات: ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جائے اور طاقتور طبقوں کو بھی ٹیکس دینا پڑے۔
-
برآمدات میں اضافہ: صنعت، زراعت، آئی ٹی اور معدنیات جیسے شعبوں کو ترجیح دی جائے۔
-
غیر ضروری درآمدات میں کمی: مقامی پیداوار کو فروغ دیا جائے۔
-
شفاف طرزِ حکمرانی: کرپشن اور وسائل کے ضیاع پر سخت قابو پایا جائے۔
-
طویل المدتی معاشی پالیسی: سیاسی تبدیلیوں سے بالاتر ایک قومی معاشی حکمتِ عملی اپنائی جائے۔
نتیجہ
قرض بذاتِ خود ہمیشہ بری چیز نہیں ہوتے؛ اگر انہیں پیداواری سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کے لیے استعمال کیا جائے تو وہ ترقی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ مگر جب قرضے عیاشیوں، خساروں اور پرانے قرضوں کی ادائیگی کے لیے لیے جائیں تو وہ قوموں کو غلام بنا دیتے ہیں۔
پاکستان آج ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ اگر ہم نے اب بھی اپنی معاشی سمت درست نہ کی تو آنے والی نسلیں بھی انہی قرضوں کے بوجھ تلے دبی رہیں گی۔ وقت آ گیا ہے کہ قوم اور قیادت دونوں یہ فیصلہ کریں کہ ہمیں قرضوں کے سہارے جینا ہے یا خود انحصاری کی طرف بڑھنا ہے۔ CN report, 13 June 2026